تحریر :امان اللہ باجوڑی
بھائی کا گھر سے نکلے ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کا فون آیا،”ہیلو، السلام علیکم،میں مدراس چوک کے پاس ہوں گاڑی پنکچر ہوگئی ہے جلدی آجاو“۔ یہ کہہ کر اس نے فون کاٹ دیا۔ میں نے فوراً اپنی گاڑی اسٹارٹ کی، گھر والے سب میرے اردگرد جمع ہوگئے اور پوچھنے لگے ”اب تم بھی کہاں جارہے ہو؟“۔ میں نے کہا، ”سب کچھ ٹھیک ہے، بس بھائی کو گاڑی پنکچر ہوگئی ہے اس کو پنکچر والے تک پہنچا آتا ہوں“۔

دراصل گھر والوں کی اس طرح بے چینی بجا تھی، چھوٹے بھائی کے ہاسٹل سے اس کے دوست کا فون آیا تھا کہ اسامہ کی طبیعت زیادہ ناساز ہے فوراً آکر ہسپتال پہنچادو۔ ابو نے فون کرنے والے سے پوچھا بھی کہ بائیک پر تو بیٹھ سکے گا نا اور ابو نے ہمیں جلد ازجلد ہاسٹل پہنچنے کا حکم دیا۔ ابھی ہم مشورہ ہی کررہے تھے کہ کون جائے کون نہیں کہ امی نے نہایت غصے میں کہا،”تم باتوں میں لگ جاو اور وہاں میرا بیٹا مررہاہے اس کی پرواہ نہیں“۔ پھر بھائی نے نہایت پُرتی سے بائیک نکالی، تھوڑی ہی دیر بعد اس کا فون آیا اور مجھے مدراس چوک پر بلایا۔

میں جب وہاں پہنچا تو بھائی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہواتھا، بازو میں لگے ہوئے زخموں کو ٹٹول رہا تھا۔اس کی بائیک بری طرح پھنس چکی تھی۔ بھائی نے بتایا،”اللہ تعالی نے بہت کرم کردیا جو مجھے بچایا، دراصل میں بھائی کو لینے کے لیے تیزی میں تھا، کہ الٹے سمت سے آنے والی گاڑی کا خیال نہ رہا اور ایکسیڈنٹ ہوگیا، کار والا تو بھاگ گیا لیکن الحمدللہ میں ٹھیک ہوں، بس اب تم فوراً ہاسٹل پہنچو۔ بھائی کو ڈاو ہسپتال لے آو، لیکن آہستہ جاو کوئی جلدی نہیں کرنی“۔

میرا بھی سینے میں دل تھا،چاہتا تھا کہ جلد ازجلد ہاسٹل پہنچوں لیکن بڑے بھائی کی ہدایات سامنے تھیں، گھبراہٹ کی وجہ سے جسم پر کپکپی سی طاری تھی۔ بیس منٹ بعد ہاسٹل پہنچا لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ پورا گھنٹہ پہنچنے میں لگ گیا۔میں جیسے ہی گیٹ سے اندر داخل ہوا تو حیران رہ گیا، کیوں کہ بھائی موج مستی میں کینٹین کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔میں ہکا بکا اسے دیکھتا رہا، اس نے آکر پوچھا،”کیسے آنا ہوا؟۔ میں نے پہلے گلے سے لگایا اور پھر ساری داستان سنادی“۔ بھائی نے سر جھکایا پھر کہا ،”مجھے ہلکاسا بخار تھا، گولی کھائی تو اللہ تعالی نے شفاءدے دی۔ میرے دوست نے مجھے کہا کہ اپنے ابو کا نمبر دے دو تاکہ میں انہیں بلاوں لیکن میں نے کہا کہ میں ٹھیک ہوں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس نے کہیں سے نمبر ڈھونڈ نکالا اور مجھے بتائے بغیر آپ لوگوں کو تکلیف دے دی“۔

میں نے فورا گھر فون کیا، انہیں اصل صورتِ حال بتادی، لیکن خاص کر امی کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ سو میں بھائی کو لے کر گھر آگیا۔پورے راستے میں میں یہی سوچتا رہا کہ کس طرح ایک غلط بیانی یا مبالغہ آرائی سے ہم پر قیامت صغریٰ گزری۔ اس طرح تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، ہماری ایک غلط بیانی کسی کی جان بھی تو لے سکتی ہے اور ایک تسلّی کسی کی جان بچا بھی سکتی ہے۔ ہمیں خود احساس بھی نہیں ہوتاکہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ کسی کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا دین بھی ہمیں درس دیتا ہے کہ ”پہلے تولو پھر بولو“ اور یہی عقلمندوں اور حکماءکا شیوہ بھی ہے۔ جب تک کسی بات کی مکمل تحقیق نہ ہو اسے آگے نقل کرنا نہایت نامناسب امر ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ’،’ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ جو بات وہ سنے (بلا تحقیق کے)لوگوں میں پھلانا شروع کردے“۔

عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے کہ،” زبان جسم کے اعتبار سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کا گناہ اور اثر بہت زیادہ اور گہرا ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ بعض منہ پھٹ قسم کے لوگ جو دل میں آتا ہے کہہ دیتے ہے، ان کو مخاطب کی ذرہ بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کس حالت میں ہے۔ میری یہ بظاہر چھوٹی سی بات ان کے زخموں پر نمک پاشی تو نہیں کرے گی۔ ہماری ایک ہی بے تکی بات سے کوئی اپنی عزت، مال و جان سے ہاتھ دھو بیٹھ بھی سکتا ہے اور پھر اس کے لیے خود بھی وبال کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کو اپنی بہت سی باتوں پر بعد میں پشیمانی ہوتی ہے لیکن تب تک تیر کمان سے نکل چکا ہوتا ہے۔

لیکن اس کے برخلاف میٹھا اور شیریں زبان و لہجہ لوگوں کے دل جیتنے کا زریعہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ،” زیادہ بہتر اور اچھا انسان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔(بخاری) دوسری حدیث میں ہے کہ،” خوش قسمت ہے وہ شخص جو زبان کو قابو میں رکھے، گھر تک محدود رہے اور گناہوں پر روئے“۔(ابوداو¿د)تو ہمیں لوگوں کی عزتوں سے، ان کی زندگیوں سے اور ان کی خوشیوں سے کھیلنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہم نے خوشیاں بانٹنی ہے اور لوگوں کو زندہ رہنے کا احساس دلانا ہے۔

Facebook Comments