تحریر:رابعہ شبیر

نوجوان جسے ملک و ملت کا سرمایہ اور آنے والے کل کا محافظ سمجھا جاتا ہے وہ نوجوان جس کے بازو میں اتنا دم خم ہے کہ وہ نوجوانی کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھتے ہی سندھ فتح کر لیتا ہے۔ وہ نوجوان جو بھرپور جوانی میں میدان کربلا میں اپنے چچا کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر باطل کا مقابلہ کرتا ہے حتی کہ اپنی جان تک حق کے راہ میں قربان کر دیتا ہے۔وہ نوجوان جو سائنس اور کمپیوٹر کی دنیا میں ترقی کی وہ منزلیں طے کر رہا ہے کہ عقل حیران ہے۔جی ہاں یہ اسی نوجوان کی بات ہو رہی ہے جو آج اکیسویں صدی میں جو ایجادات، دریافت اور معجزات کی صدی ہے میں زندگی جیسی انمول نعمت ہو صرف ایک بار عطا ہوتی ہے کو ٹھکرا کر ہنسی خوشی موت کے گلے لگنے کو تیار ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر موت کا مانگنا اور خودکشی کرنا کفر ہے۔

لیکن دورِ حاظر میں ہونے والی بہت سی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ نوجوان نسل میں خودکشی کے رجحانات گزشتہ کئی دہائیوں کی نسبت بہت بڑھ چکے ہیں بلکہ نوجوان طبقے میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔15-25 سال کی عمر کے افراد میں خود کشی پر مبنی خیالات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ نوجوان طبقہ مسلسل ڈپریشن کا شکار ہے۔

یونائٹڈ سٹیٹ میں اس کانمبر تیسرا ہے۔ پاکستان میں کوئی آفیشل نیشنل ڈیٹا ریکارڈ موجود نہیں کہ جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ پاکستان میں سالانہ بنیادوںپر ہونے والی خودکشیوں کی شرح کیا ہے۔ 1995 میں ریکارڈ کیے گئے ایک ڈیٹا کے مطابق عورتوں میں خودکشی کی شرح 25-66% اور مردوں میں 10-25% ہے۔ پنجاب اور سندھ میں یہ شرح دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔

مختلف مذاہب میں خودکشی جیسے حرام فعل کی ممانعت کی گئی ہے۔

اسلام: سورةا نساءآیت 29 میں ارشاد باری ہے،” اپنے آپ کو مت مارو بے شک اللہ تمہارے لیے مہربان ہے“۔

ہندوازم: اپنے آپ کو مارنے کا گناہ کسی اور کو مارنے کے گناہ کے برابر ہے۔ کچھ لکھنے والوں کا ماننا ہے کہ جو انسان اپنے آپ کو مارتا ہے وہ بھوت بن جاتا ہے۔

کرسچن: انسان کی زندگی اس کے خدا کی ملکیت ہے۔

گویا اسلام سمیت کوئی بھی مذہب خودکشی جیسے قبیح و حرام فعل کی اجازت نہیں دیتا۔ خودکشی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو بہت سی وجوہات ایسی ہیں جو ہر خطے میں یکساں پائی جاتی ہیں۔

جیسے والدین کی نافرمانی، دین سے دوری، ڈپریشن، گھریلو جھگڑے اور ناچاقیاں۔ دیگر اگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی بات کی جائے تو بے روزگاری، غربت، افلاس، امتحان میں ناکامی اور گھریلو مسائل ایسی اہم وجوہات ہیں جن کی بناءپر نوجوان زندگی جیسی انمول نعمت کو ٹھکرا کر کفران نعمت کر رہے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، افلاس، امتحان میں ناکامی، گھریلو ناچاقیاں ایسی اہم وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر نوجوان زندگی جیسی انمول نعمت کو ٹھکرا کر موت کو گلے لگانے پر تیار ہیں۔خودکشی کے رجحانات کو کم کرنے کے لئے سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے،ان کو مذہب سے مکمل آگاہی دی جائے، غلط اور صحیح میں تمیز کرنی سکھائی جائے، گھر کے ماحول کو حتی المقدور بہتر بنایا جائے اورگھریلو ناچاقیوں کوبچوں پر ظاہر نہ ہونے دیا جائے۔

کامیابی کے ساتھ ساتھ بچوں کو ناکامیوں کو اپنانا سکھائیں۔ بعض اوقات والدین بچوں کو ان کی ناکامیوں پر اس قدر ڈانٹ ڈپٹ دیتے ہیں کہ وہ دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کر لیتے ہیں۔بچوں کو سکھایا جائے کہ ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ والدین بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔نوجوان بذاتِ خود تعمیری سوچ کے حامل بنیں ناکہ ناکامیوں اور بے ر وزگاری جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر زندگی جیسی انمول نعمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔یہ زندگی نہایت قیمتی ہے جس کا شکر ہمیں ہر سانس کے ساتھ ادا کرنا چاہیے ناکہ کفران نعمت کرتے ہوئے مشکل حالات سے گھبرا کر خود کشی کا راستہ منتخب کریں۔

Facebook Comments