شاعرہ : گل اندام خٹک

چلو ہم سفر کرتے ہیں
چلو ہم ساتھ چلتے ہیں
مگر یہ طے کرو اب سے
کہاں تک ساتھ چلنا ہے
چلو وعدہ نہیں کرتے
چلو دعو’ی نہیں کرتے
جہاں تک ہوسکے ہم سے
وہاں تک ہو سکے ہم سے
وہاں تک ساتھ چلتے ہیں

Facebook Comments