تحریر: مغیثہ خالد

حدیثِ مبارکہ ہے”دعا عبادت کا مغز ہے“۔ دعا کرنایعنی اپنے ہاتھ عاجزی سے اٹھانا اس رب کی بارگاہ میں جس کے قبضہ قدرت میں کائنات کے تمام راز ہیں۔اس مالک کل سے مانگنا جو خوش ہوتا ہے جب کوئی بندہ اسے پکارتا ہے اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر عاجزی سے سوال کرتا ہے۔ اس کی قادر ہونے پر یقین رکھ کر جب کوئی اس کے آگے جھولی پھیلاتا ہے تو وہ مانگنے والے کواپنی شان کے مطابق عطا کرتا ہے۔

دعا کی قبولیت کے مختلف درجات ہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندے کے حق میں کس وقت کیا بہتر ہے۔ وہ اسے وہی عطا کرتا ہے جو بندے کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔دعا کبھی رد نہیں ہوتی یا تو بعینہ قبول ہو جاتی ہے ۔جو دعا مانگی جائے اللہ عطا فرما دیتا ہے یا پھر اللہ تبارک و تعالی اس کا کوئی نعم البدل عطا فرما دیتا ہے جو ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے یہ پہلا درجہ ہے۔پھر اگر ایسا نہ ہو تو اللہ تبارک تعالی اس دعا کی برکت سے کوئی مصیبت پریشانی، آفت ہم سے ٹال دیتا ہے، یہ دوسرا درجہ ہے۔

اور اگر ایسا بھی نہ ہو تو تیسرا درجہ ہوتا ہے جس کو اکثر لوگ سمجھ نہیں پاتے اور وہ ہے آخرت میں ذخیرہ یعنی جو دعائیںدنیا میں قبول نہیں ہوتی رب تبارک و تعالی اس ک اجر بندے کو بروز قیامت عطا فرمائے گا اور اس وقت بندہ یہ خواہش کرے گا کہ کاش! دنیا میں اس کی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہوتی۔

یہ اس رب العالمین کا ہم گناہگاروں پر فضل ہی تو ہے کہ اس نے ہمیں دعا مانگنے کا راستہ دکھایا، ہر مشکل گھڑہ میں جب انسان تنہا ہو تو وہ اسے پکار سکے اور وہ اپنے ہر پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتا ہے۔ اسے پسند ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے عاجزی سے مانگے، ہاتھ پھیلا کر، گڑگڑا کر روئے اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی سی خواہش اللہ کی بارگاہ میں پیش کرے۔جب بندہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو رب تبارک و تعالی جو اپنے بندوں سے ستر ماوں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے بندے کی جانب دو قدم بڑھاتا ہے، جب بندہ لڑکھڑاتا ہے تو وہ سنبھال لیتا ہے، جب گرتا ہے تو سہارا دیتا ہے غرض یہ کہ وہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ آزماتا بھی ہے تو قدم قدم پر سہارا بھی دیتا ہے۔ مشکل حالات میں لڑنے کی ہمت بھی وہی عطا کرتا ہے۔

اے رب تو ہی تو ہے
زندگی کی ہر سانس میں
جو تو ہے تو سب کچھ ہے
ورنہ دنیا و آخرت کا خسارہ ہے

Facebook Comments