تحریر: عائشہ یاسین

ملک کی ابتر حالات دیکھ کر جب دل ہول سا جاتا ہے تو اپنے عظیم لیڈر جناب قائد اعظم کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ایمان،تنظیم اور یقین محکم اور یہی وہ الفاظ ہیں جو روح میں پھر ایک امید اور یقین کو بےدار کرتی ہے کہ یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا تھا۔ جس کاقائدجناح جیسا ہو اس کی بنیادیں بھی کوئی معمولی نہ ہوں گی۔ پاکستان میرے قائد کی حکمت اور دانائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عقل، فراست، سادگی، سچائی اور ایمان سے بھرپور شخصیت کا حامل میرے قائد محمد علی جناح تھے جن کی خاموشی بھی گفتگو تھی اور جن کی گفتگو مختصر پر مکمل ہوا کرتی تھی۔

آج میں اپنے قائد کا ذکر کچھ الگ طور کرنا چاہوں گی۔ وہ اعلی افکار کے مالک شخص تھے جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ وطن اور اس میں بسنے والوں کے لیے وقف تھا۔ اللہ نے ہمیں ایک ایسے لیڈر سے نوازا جو دیانت دار بھی تھا اور اعلی کردار بھی۔ جب بھی کسی رہنما کا ذکر آتاہے تو ذہین میں صرف قائد اعظم کا کروار گھومتا ہے۔ کیا کوئی ہے ہمارے ملک میں ایسا لیڈر جو قائد اعظم کے نقش قدم پر چلتا ہو جو ایسا سادہ صفت ہو کہ سادگی بھی ناز کرتی ہو۔ نہیں میری نظر ڈھونڈتی ہے۔ آزادی کے بعد کے 70 سالوں میں تو کوئی نظر نہیں آتا۔ ایسا سنجیدہ اور بردبار طبیعت صرف قائداعظم ہی نے پایا تھا۔ یہ ان کی شخصیت کا شاخسانہ ہی تو تھا کہ فرنگیوں کو ان کے سطح پر جا کے اپنے دلائل اور فکر انگیزی سے پسپا کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح ؒنے کبھی ایک شخصیت کی حیثیت سے حکام بالا سے مخاطب نہیں کیا بلکہ بحیثیت مسلمان قوم جن کا ماضی ایک کامیاب اور حکمران وقت کے طور پر گزرا، اس کی رہنمائی کی۔ علامہ محمد اقبالؒ نے قائداعظمؒ کے بارے میں فرمایا تھا کہ، ”محمد علی جناح کو نہ تو خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے“۔ وکالت میں قائدِاعظم کے کچھ اصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ موکل نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔قائدِاعظم ؒنے جواب دیا کہ میں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ موکل نے پیشی کے پیسے پوچھے تو قائدِاعظم نے کہا پانچ سوروپے فی پیشی۔ موکل نے کہا کہ میرے پاس پانچ ہزار روپے ہیں۔

آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔اس پر قائدِاعظم نے کہا،” مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوں کہ میرا اصول ہے کہ میں فی پیشی فیس لیتا ہوں“۔چنانچہ قائدِاعظم نے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ”میں نے اپنا حق لے لیا ہے“۔

وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا۔ یہ وہ آخری سرکای تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاءکی اگلی نشستیں ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاءکو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا۔ ان میں کئی دوسرے وزراءاور سرکاری افسر کے ساتھ اس وقت کے وزیراعظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی قائد اعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولے گی۔

کابینہ کی جتنی میٹنگز ہوتی تھیں قائد اعظم محمد علی جناح نے منع فرمایا تھا کہ کچھ بھی کھانے کے لیے نہ دیا جائے۔ 1933سے لے کر 1946تک قائداعظم محمد علی جناح نے ایک اندازے کے مطابق 17 قرار دادیں پیش کیں جس میں فلسطین کے حق خود ارادیت کی بات کی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان بھی وجود میں نہیں آیا تھا مگر اس کے باوجود ان کے دل میں امت مسلمہ کے لئے جذبہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہواتھا۔

ایک دفعہ آپ گاڑی میں کہیں جا رہے تھے تو ایک جگہ ریلوے ٹریک بند ہوگیا۔ آپ کا ڈرائیور اتر کے وہاں پر موجود شخص سے کہنے لگا کہ گورنر جنرل آئے ہیں ٹریک کھولو۔ مگر ہمارے عظیم لیڈراور بانی پاکستان نے فرمایا کہ نہیں اسے بند رہنے دو۔ میں ایسی مثال قائم نہیں کرنا چاہتا جو پروٹوکول پر مبنی ہو۔محمد علی جناح وہ لیڈر تھے جن کے بارے میں انگریزوں نے بھی کہا تھا کہ اگر ہمیں پتا ہوتا قائداعظم کو اتنی بڑی بیماری ہے تو ہم کبھی پاکستان نہ بننے دیتے۔کیونکہ قائداعظم نے آخری وقت تک اپنی بیماری کو پوشیدہ رکھا۔ کیونکہ ان کو معلوم تھاکہ اگر میری بیماری کا ہندوں اور انگریزوں کو پتہ چل گیا تو ہندوستان کی تقسیم کو انگریز موخر کردیں گے۔ مرنے سے پہلے آپ نے اپنے ڈاکٹر سے کہا ”کہ پاکستان ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم شامل نہ ہوتا“۔

یہ ہیں میرے لیڈر میرے قائد اور میرے بانی پاکستان جناب محمد علی جناح۔ ایسا لیڈر پھر پیدا نہیں ہوا۔ پاکستان میں بسنے والوں میں ایک بھی رہنما میرے قائد اعظم جیسا نہیں۔ جو نہ اصولوں پر سودا کرتا تھا اور نہ مفاہمت۔ اس کے لیے سب برابر تھے۔ سب کو مساوات کے اصول میں تولتا تھا۔ ملک کا ایک پیسا خود پر حرام کر رکھا تھا۔ کوئی آسائش اپنے لیے نہیں رکھی۔ سوچا تو ملت کا سوچا ،اپنی قوم کا سوچا ،ان کی بھلائی کا سوچا اور اپنی صحت تک کو فراموش کردیا۔ ہم اس قائد کی قوم ہیں جس کے نزدیک ایمان،تنظیم اور یقین محکم ایک کامیاب قوم کا ہتھیار تھے۔ ان الفاظ میں انہوں نے کامیابی کے فارمولے کو بند کر کے اپنی قوم کی ہاتھوں میں سونپا تھا۔ مگر افسوس ان 70 سالوں میں ایک بھی رہنما قائد اعظم کے اصولوں کو نہ جان پایا۔ بلکہ ملک و ملت کی اہمیت اور ضرورت وقت سے ہمیشہ لا علم رہا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جس پر اعتماد کیا جائے اور ملک کی باگ دوڑ سنبھالے۔ اللہ ہمارے ملک کو ہمارے جناح جیسا قائد عطا کرے اور ہمارے پاکستان کو سلامت رکھے۔آمین

Facebook Comments