تحریر: حسنین معاویہ


نبی کریم ﷺایک کامل واکمل انسان ہیں۔آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں،آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو قابل ستائش و قابل عمل اور مثالی ہے۔آپﷺ صرف پیغمبر، نبی اور رسول ہی نہیں بلکہ ایک بہترین باپ اور مثالی شوہر بھی ہیں۔ آپﷺنے ایک بہترین زندگی گزاری ہے چاہے وہ بحیثیت تاجر ہو، مبلغ ہو، معلم ہویابحیثیت سپہ سالار ہو، یا پھرآپ ﷺ ایک خاوند ہوں۔ آپ ﷺکی نجی زندگی بھی ایک مثالی زندگی ہے۔ بحیثیت شوہر اور رفیق حیات نبی اکرم ﷺ کا جو کردار ہے وہ ہر شوہر کے لیے بہترین نمونہ ہے۔


آپ ﷺ نے اس پہلو پر بہت زیادہ زور دیا یہاں تک کہ آخری خطبہ (حجةالوداع ) کے موقع پر بھی بیویوں کے حق میں نصیحت فرمائی۔ ”اگرکبھی تمہاری ان سے کسی بات پر اونچ نیچ ہو جا ئے اور بات جھگڑے تک پہنچ جائے تو ان کو آرام سے سمجھاﺅ۔اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر الزام لگانے کے پہلو تلاش نہ کرو، بے شک تمہارا عورتوں پر اور ان کا تم پر حق ہے“۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ” تم میں سے بھلا آدمی وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہترین ہو“۔ (ترمذی ،ابن ما جہ)


آپ ﷺ نے 11 عورتوں سے نکاح کیا جن میں سے 2 ازواج نے آپ ﷺ کی زندگی میں ہی وفات پائی اور باقی نو ازواج آپ ﷺ کی وفات تک زندہ رہیں۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا، کبھی بھی ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ ان کی ہر جائز خواہش ،ضرورت کا بھر پور خیال رکھا اور ان کو کبھی کوئی تکلیف نہ دی،ان کے ہر غم اور خوشی میں برابر شریک رہے۔ ان کے درمیان ہمیشہ میانہ روی اختیارکیے رکھی، زیادہ ہونے کے باوجود ان کو ہمیشہ خوش رکھا ۔جب آپ ﷺ کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرع اندازی کرتے جس زوجہ کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ ﷺ نے تمام ازواج میں برابری کے لیے ان کے درمیان باری تقسیم کی ہوئی تھی، جس رات جس کی باری ہوتی آپ ﷺ اسی کے پاس رات گزارتے تھے۔


جب آپ ﷺ کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے جس زوجہ کانام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے ،آپ ﷺ نے تمام ازواج میں برابری کے لیے ان میں باری تقسیم کی ہوئی تھی،جس رات جس کی باری ہوتی آ پ ﷺ اسی کے پاس رات گزاتے تھے۔


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ، ”میں آپ ﷺ کے ہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ ہوتی تھیں ،جب آپ ﷺ گھر تشریف لاتے تو سب ادھر اُدھر چھپ جاتیں تو آپ ﷺ خود ان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر میرے پاس بھیجتے تاکہ وہ میرے ساتھ کھیلیں“۔ (بخاری ،مسلم)۔ ایک بار حج کے موقع پر ام المومنین حضرت صفیہ ؓ کا اونٹ راستے میں بیٹھ گیا اور یہ کافلے سے پیچھے رہ گئیں اور زور قطار رونے لگیں، آپ ﷺ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے چادر کا پلو لے کر آنسوں پونچھتے رہے اور وہ روتی رہیں۔


ایک دن آپ ﷺ اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہوا کیونکہ حضرت عائشہؓ اسوقت چھریرے بدن کی تھی ا س لیے آگے نکل گئیں اور مقابلہ جیت لیا۔ پھر کافی عرصہ بعد جب حضرت عائشہ ؓ کا بدن بھاری ہوگیا تو پھر مقابلہ ہوا اس دفعہ وہ سرکار دوعالم سے پیچھے رہ گئیں، تب آپ ﷺ نے فرمایا اس دن کا بدلہ ہو گیا۔


آپ ﷺ کا روزانہ کا معمول تھا کہ عصر کی نماز کے بعد ہر زوجہ کے گھر تشریف لے جاتے تھے ،تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ گھر میں کیسے تھے؟ کہنے لگیں تمام انسانوں میں نرم، سب لوگوں سے بڑھ کر عزت و وقار والے آپ ﷺ تمہارے مردوں کی طرح مرد تھے مگر یہ کہ آپ ﷺ زیادہ دیر تک مسکراتے رہتے تھے۔


آپ ﷺکی عادت مبارک تھی کہ گھر میں رہتے ہوئے گھر والوں کے کاموں میں انکا ہاتھ بٹاتے تھے، ان کی خدمت کرتے، جب کوئی کپڑا پھٹ جاتا تو اس کو پیوند لگاتے، جوتا پھٹ جاتا تو اس کو اپنے دست مبارک سے سی دیتے، بکری کا دودھ بھی خود نکال لیتے تھے۔


الغرض آپ ﷺ کی زندگی کا یہ پہلو بھی باقی پہلووں کی طرح مثالی اور شاندار ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ﷺ پیغمبر اور رسول ہونے کے باوجود گھر میں اپنی ازواج کے کے ساتھ عام سی زندگی گزارتے تھے۔ ہمارے لیے اس پہلو میں سبق ہی سبق ہے۔ ہم زندگی کے اس پہلو کا مطالعہ کر کے ایک اچھے شوہر بن سکتے ہیں۔

Facebook Comments