تحریر: صدف نایاب


آنکھوں آنکھوں میں الجھی ڈور۔۔۔
کہ دل ہوا بو کاٹا۔


نوید اپنے دوستوں کے ساتھ محلے کی پانی دینے والی ٹنکی جو کہ کئی فٹ اونچی تھی۔اس پر چڑھا ہوا تھا۔انتہائی اونچی آواز میں لگا ہوا ڈیک جہاں دل کو دہلا رہا تھا وہیں کانوں کے پردے بھی پھاڑ رہا تھا۔ پورا محلہ نوید اور اس کے دوستوں کے شور سے گونج رہا تھا۔ قریب ہی ایک مسجد تھی۔ جس کی آواز بھی گانوں کے آگے دب کر رہ گئی تھی۔ محلے کے کچھ بزرگوں نے ہمت کر کے یہ شور شرابا بند کروانے کی کوشش کی اور بسنت جیسے غیر مذہبی جان لیوا تہوار کی بھر پور حوصلہ شکنی کی۔ مگر نوید بھلا کہاں کسی کی سننے والا تھا۔ڈیک بند تو نہ ہوا البتہ آواز کچھ دھیمی کر دی گئی۔


”کاشی!ڈور تیار کر لو۔ وہ دیکھو بلال کا گڈا اڑ رہا ہے۔ اس کو کاٹنا ہے“، نوید نے اپنے دوست کاشف کو آواز دی جو کہ جلدی جلدی چائے پی رہا تھاتاکہ تازہ دم ہو سکے۔”نوید تمھیں دوں چائے۔ تھوڑا آرام کر لو پھر ڈٹ کے مقابلہ کریں گے“،کاشف نے نوید کو بھی چائے پینے کے لیے کہا مگر وہ اس قدر جذبات میں تھا کہ اس نے کاشی کی بات سنی ان سنی کر دی۔”یار ارشد وہ دیکھو میں ٹنکی کی سیدھی طرف سے جا کر گڈا اڑاتا ہوں اور تم پیچھے کی طرف سے اڑاو۔ سامنے دشمن کی پتنگ اڑ رہی ہے۔ہم دونوں مل کر اس کو کاٹتے ہیں“۔ نوید کا دوسری گلی کے لڑکوں سے مقابلہ چل رہا تھا کہ کون کس کی کتنی پتنگیں کاٹے گا۔


ارشد نے بھی حامی بھر لی۔ابھی وہ دونوں یہ مقابلہ شروع ہی کرنے والے تھے کہ ایک دم نیچے سے کسی صاحب کے شور کی آواز آئی۔ نوید اور اس کے دوستوں نے نیچے جھانکا تو پتہ چلا کہ کسی صاحب کی عینک جو کہ بائیک چلا رہے تھے۔ کاشی کی ڈور اور سامنے والی چھت پر چڑھے لڑکے کی ڈور سے الجھ کر گر گئی۔مگر اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ وہ صاحب بچ گئے ہیں۔ اس واقعہ سے تھوڑی دیر کے لیے سب لوگ سہم گئے۔ مگر جلد ہی پھر وہ ہی ہنگامہ شروع ہو گیا۔مگر نوید کا مقابلہ رہ گیا۔”اللہ ہی ان بچوں کو ہدایت دے“،ریاض صاحب نے مسجد جاتے ہوئے امجد صاحب سے کہا۔


”سنا ہے گورنمنٹ نے بھی اب کی بار پابندی نہیں لگائی؟اس طرح ہر سال بہت سی معصوم اور قیمتی جانوں کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔جبکہ یہ ایک ہندوانہ تہوار ہے “، امجد صاحب نے دکھی ہوتے ہوئے کہا ۔”گورنمنٹ کو چاہیے کہ پتنگ،ڈور یہ سب چیزیں بنانے والوں پر پابندی لگائے۔بسنت کے تہوار کا ویسے بھی ہماری اقدار و روایات یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔اس کو منانے والے پربھاری جرمانہ عائد کرنا چاہیے۔ایک دفعہ ایک ہندو شخص نے نبیﷺ اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی تھی۔جس پر اس کو پھانسی دی گئی۔ تب سے ہندو اس گستاخ کی یاد میں پتنگیں اڑا کر گویا اس کو امر قرار دیتے ہیں“،ریاض صاحب نے بسنت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کچھ تجاویز پیش کیں جس کی امجد صاحب نے بھی تائید کی۔


بسنت کا ہنگامہ دو دن یونہی جاری وساری رہا۔نوید کے گھر والے بھی اسے ڈانٹتے منع کرتے مگر اس کے کانوں پر تو جوں تک نہ رینگتی۔ نوید ایسے ہی اکیڈمی سے آنے کے بعد گلی میں جانے کی تیاری کر رہا تھا تاکہ جلدی پہنچ کر ڈور،پتنگ اور ڈیک وغیرہ سیٹ کر لے کہ ٹی وی کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ ”آج کی تازہ خبریں،بسنت منانے کے دوران دو چھوٹے بچے اور کئی نوجوان گلے پر ڈور پھر جانے کے باعث ہلاک۔ جبکہ کچھ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے“۔


تھوڑی دیر کے لیے نوید کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی اور وہ جانے کا ارادہ ترک کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔مگر جلد ہی وہ اس کیفیت سے باہر نکل آیا۔ جب اس کی آنکھوں کے سامنے دوسرے محلے کا بلال گردش کرنے لگا۔ جسے وہ اس دن ہرا نہیں سکا تھا۔تھوڑی دیر میں ڈیک پھر بجنے لگنے لگا تھا۔
پیچا لگا تو مچ گیا شور
کہ دل ہو ابو کاٹا


”یار کاشی آج اس بلال کو ضرور ہرانا ہے“،یہ کہتا ہوا نوید آسمان کی طرف دیکھنے لگا اور اس نے بلال کا پیچا کاٹنے کے لیے دیوانہ وار بھاگنا شروع کر دیا۔ گڈا ٹنکی کی پچھلی طرف جب کہ نوید آگے کی طرف تھا۔ گڈا پکڑنے کی کوشش میں نوید ٹنکی کی سیڑھیوں سے مزید بالائی منزل پر چڑھ گیا۔ جہاںجانے سے اس کے دوستوں نے روکنا چاہا مگر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ یہاں سے گڈا اب بالکل واضح نظر آرہا تھا۔ نوید نے جونہی بلال کا بہت بڑا سا گڈا کاٹا ساتھ ہی اس کا پاوں پھسلا اور وہ بھی ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی کی ڈور کاٹ بیٹھا۔ایمبولینس کے شور سے سارا محلہ نوید کے گرد جمع تھا۔ ڈیک بند کرنے کا ہوش کسی کو نہ رہا۔ جو ابھی بھی مسلسل ”وہ کاٹا“ کا شور مچا رہا تھا۔گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے جاتے ہوئے ماں کو کہا تھا دیکھنا ماں آج میں ضرور جیت کر آوں گا۔ نوید جیت تو گیا تھا مگر زندگی کی بازی ہار کر۔

Facebook Comments