تحریر:مریم صدیقی

اللہ تعالی نے انسان کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا اور اسے علم و عقل عطا کیا تاکہ وہ غور وفکر کرے اور اللہ کی نشانیاں تلاش کرے۔ انسان معرفت الہی حاصل کرنے کے لیے تلاش کہاں سے شروع کرے، کس شے پر غور و فکر کرے؟ انسان کو چاہیے کہ اس تلاش کی شروعات وہ اپنی ذات سے کرے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ میں کیا ہوں کیا صرف ایک خاک کا پتلا یا فقط آدم زاد جو چند سانسیں مستعار لے کر اس روئے زمین پر آبسا اور چند سال عیش و عشرت میں گزار کر واپسی کی راہ لی۔ کیا بس یہی میرا مقصد حیات ہے چند دن کی دوڑ دھوپ اور روکھی سوکھی کھا کر غفلت کی چادر تان کر سوجانا؟ کیا فقط یہی منشاالہی تھی کہ وہ ایسا نائب تخلیق کرے جو اپنے مقصد تخلیق سے آگاہ تک نہ ہو۔ جسے اپنی ذات میں مخفی صلاحیتوں کا علم تک نہ ہو۔ یہ سوال جب میں نے خود سے کیا تو میرے اندر سے جواب آیا، نہیں۔ رب تبارک و تعالی نے روئے کائنات پر موجود حشرات الارض کو بھی بے مقصد تخلیق نہیں کیا پھر میں تو اشرف المخلوقات ہوں، نیابت الہی کے منصب پر فائز ایسی مخلوق جسے اللہ نے عقل و شعور اور علم سے نوازا ہے۔اس جواب نے میرے اندر خود شناسی کے جذبے کو پیدا کیا کہ آخر میں جانوں تو میں کیا ہوں اور کیوں ہوں پھر میں نے اپنے مقصد حیات کی تلاش شروع کردی کہ خود شناسی ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ وہ سیڑھی ہے جو مجھے مقصد تخلیق کائنات سے آگاہی فراہم کرے گی۔

خود آگاہی کے اس سفر کی شروعات میں،میں نے اپنے ظاہر و باطن کو ٹٹولا، اپنی ذات کے شب و روز کو پرکھا۔ اس تلاش کے دوران یہ بات میرے علم میں آئی کہ انسان جب تک خود آگاہی کے مرحلے سے نہیں گزرتا جب تک وہ خود کو نہیں جان لیتا وہ جان ہی نہیں سکتا کہ اس کا مقصد حیات و مقصد تخلیق کیا ہے۔ میں نے اپنی ذات کی خوبیوں اور خامیوں کو جانچا، دن رات اپنی ذات کا مطالعہ کیا۔خود آگاہی کے اس سفر میں اپنی ہی ذات کے بارے میں کئی راز مجھ پر اِفشا ہوئے۔ کئی خامیوں سے بھی آگاہی حاصل ہوئی بالآخر میں نے جانا کہ اللہ نے مجھ میں دیگر کئی صلاحیتوں کے ساتھ تخلیقی صلاحیت پوشیدہ رکھی ہے۔ ایک حساس دل دیا ہے اور جذبات کو قرطاس پر رقم کرنے کی صلاحیت ودیعت کی ہے۔ میری خود شناسی نے مجھے میری ذات کے اندر مخفی قلم کارسے متعارف کروایا اور میں نے جانا کہ یہی میرا مقصد حیات ہے۔

یہ سوال یہاں پر بہت اہمیت کا حامل ہے کہ میرا لکھاری ہونا میرا مقصد حیات کیسے ہے؟ کیوں کہ انسان کی تخلیق کا مقصد تو رب تبارک و تعالی قرآن کریم میں بیان کرچکا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے،” اور میں نے جن اور آدمی بنائے تاکہ وہ میری بندگی کریں“۔(سورة الذاریات:56) یہاں اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد بیان فرمایا جو کہ عبادت الہی ہے۔ اب اگر ہم عبادت کو سمجھیں تو لفظ عبادت کا مفہوم بے حد وسیع ہے اس میں فقط نماز روزہ اور فرائض حج شامل نہیں بلکہ دین اسلام میں کسی کو مسکرا کرملنا بھی عبادت ہے، کسی کو پانی پلانا بھی عبادت ہے اور کسی کی اصلاح کرنا بھی عبادت ہے، کسی کے راستے کی تکلیف دور کرنا بھی عبادت ہے۔

میں کیا ہوں اور میں کیوں ہوں، اس سوال کا جواب مجھے میرے سفر خود آگاہی میں ملا کہ میں وہ اشرف المخلوق اور نائب خدا ہوں جو اپنے قلم سے اصلاح معاشرہ کا فریضہ سر انجام دے رہی ہوں۔میں وہ مصلح ہوں جس کے قلم کا مقصد دین و ملت کے لوگوں کی اصلاح ہے، میں وہ قلم کارہوں جس کا قلم ہی بوقت ضرورت اس کا ہتھیار ہے اور یہی میرا مقصد حیات ہے کہ میرے قلم سے لکھے گئے الفاظ اگر کسی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کا باعث بنتے ہیں اور میرے الفاظ اگر کسی کی اصلاح کا باعث بنتے ہیںتو یہی میری عبادت ہے۔ اس دور جدید میں ملک و ملت کے خلاف کئی قسم کے فتنے آئے دن سر اٹھارہے ہیںاور اسلام دشمن گروہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر لادینیت پھیلا رہے ہیں۔ اس پرفتن دور میں بحیثیت قلم کار یہ میری اور ہر اس شخص کی ذمے داری ہے جسے اللہ کی جانب سے یہ صلاحیت عطا ہوئی ہے کہ وہ جہاد بالقلم کرکے ان فتنہ پرور لوگوں کو منہ توڑ جواب دے اور ہر حال میں اپنا یہ کام جاری رکھے۔

درحقیقت یہی اقبال کا پیغام خودی بھی ہے جس میں وہ انسان کو اپنی ذات کی معرفت حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم میں سے کئی لوگ ہیں جو آج بھی اپنی مخفی صلاحیتوں سے ناآشنا ہیں ۔ ناآشنا ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں،ہم نے خود کو اس مشینی زندگی اور نفسا نفسی کے دور کا حصہ بنا لیا ہے اب ہمارے پاس نہ ہی اپنوں کے لیے وقت ہے اور نہ اپنی ذات کے لیے یا پھر ہم خود شناسی کو اہم نہیں جانتے اور جو ہے جیسا ہے کی ڈگر پر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔خود آگاہی بلاشبہ ایک مشکل عمل ہے اس مرحلے کے دوران ہمیں ہماری ذات کے ان منفی پہلووں سے بھی آگاہی ہوتی ہے جنہیں ہم بعض اوقات جان کر بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ میں نے اس سفر کے دوران یہ جانا کہ خود شناسی کامیاب زندگی کی کنجی ہے۔

خود سے ملنے کا چلن عام نہیں ہے ورنہ
اپنے اندر ہی چھپا ہوتا ہے رستہ اپنا

Facebook Comments