تحریر: علی احمد ساگر

صحافت ایک عظیم شعبہ ہے۔ معاشرے میں اس کی اہمیت اور افا دیت سے ہر ذی شعور بخوبی واقف ہے۔ صحا فت کو ریاست کا چوتھا ستو ن جبکہ معاشرے کی آنکھ اور کان کا درجہ حاصل ہے۔ عام آدمی کی آواز کو اعلی ایوانوں تک پہنچانے اور جلد انصاف کی فراہمی میں صحافت کا بڑا اہم کردار ہے۔ شعبہ صحافت سے وابستہ افراد (صحافیوں) نے اپنے مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے شب و روز محنت اور کاوشیں کرکے اسے بہت بڑا مقام دلوایا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت شعبہ صحافت ترقی کی جس منزل پر پہنچ چکا ہے اب اس سے آگے اوپر جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ تاہم اگر آج سے 25 سے 30 سال پیچھے چلے جائیں تو اخبارات اور اس سے ملحق افراد کی تعدادا تو بہت کم تھی البتہ وہ اپنے کام میں پختہ، تجربہ کار اور معیار پر پورا اترنے والے تھے۔

بد قسمتی سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج 90 فیصد شعبہ صحافت سے وابستہ افراد غیرصحافتی اور متعدد صحافیوں کے ستائے ہوئے اور ان سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ اس شعبہ سے وا بستہ اکثریتی افراد نے اپنے دو نمبر کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے اس عظیم شعبہ کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ بڑے بڑے شہروں میں پراپرٹی، سگریٹ کا کاروبار کرنے والے، کالج، یونیورسٹیز، ڈیئری فارمز، کارخانوں، پیٹرول پمپس، ہوٹیلز ، فوڈ ملز کے مالکان اور ٹھیکیداران اسی طرح کرپٹ ریٹائرڈ سرکاری افسران اور یہاں تک کہ منشیات کا کاروبا ر کرنے والے اربوں پتی افراد نے صحافیوں سے تنگ آکر اپنے اخبارات اور چینلز بنالیے ہیں۔ بڑی شرم کی بات یہ ہے کہ یہ غیر صحافتی میڈیا مالکان ایک پریس ریلیز بھی اپنے ہا تھ سے نہیں لکھ سکتے۔ اتنا برا حال تو ملکی سطح پر ہے جبکہ علاقائی سطح پر تو اس سے بھی زیادہ براحال ہوا ہے۔

صحافت مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ نچلی سطح پر علاقائی رپورٹرز کا اس طرح استحصال کیا جا رہا کہ نہ تو ان کی کو ئی تنخواہ ہو تی بلکہ ان سے ہزارو ں روپے سالانہ بزنس کی شکل میں وصول کیے جاتے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ادارے اپنے رپورٹرز کو خود کرپشن کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ بڑے بڑے اخبارات کے اداروں میں نیوز پر بیٹھنے والے کمپیوٹر آپریٹرز ماہانہ لے کر خبروں کی اشاعت کرتے ہیں۔ صحافت کمزور اور غریب پڑھے لکھے افراد کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے۔ اخبارات، چینلز میں رپورٹرز بننے کے لیے تعلیم، تجربہ کریکٹر سرٹیفکیٹ کی تو ضرورت ہی نہیں ہوتی بلکہ وہاں تو صرف اور صرف پیسے کی بو لی لگتی ہے جو پیسے زیادہ دے وہی نمائندہ بن جاتا ہے خواہ وہ چور، ڈاکو، رہزن، بدمعاش، سٹے باز ہی کیوں نہ ہو۔

رہی سہی کسر ڈمی اخبارات اور ویب چینلز نے نکال دی ہے۔ ڈمی اخبارات اور ویب چینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے چھوٹے چھوٹے علاقوں میں دو نمبر رپورٹرز کا جال بچھا رکھا ہے۔ ان پڑھ اوردو نمبر رپورٹرز گلی محلوں میں لوگوں کو پریشان کر کے بلیک میل کرتے ہیں اور ان سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ ڈمی اخبا رات اور ویب چینلز کے مالکان جن میں عمومی طور پر پرائمری پاس بھی نہیں ہوتے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہو ئے ہیں ”ضرورت نمائندگان“ کے اشتہارات پھیلا دیتے ہیں اور اپنے ہی جیسے لوگوں کو رپورٹرز کا جعلی کارڈ دے کر پہلے تو خود پیسے وصول کرتے ہیں اور بعد میں اپنے رپورٹرز کو بھی گلی محلوں میں شرفاءکی پگڑیاں اچھالنے اور انہیں بلیک میل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں دو نمبر رپورٹرز کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب یہ بات درست ثابت ہو رہی ہے کہ آج کل تو ریڑھی بان بھی صحافی بن چکے ہیں۔

ایک صحا فی تانگے پر سفر کر رہا تھا جب وہ اپنی منزل پر پہنچا تو ”کوچوان“ نے کرا یہ مانگا۔ تو صحافی نے اپنا کارڈ نکالا اور کہا کہ میں تو پریس رپوٹر ہوں۔ ”کوچوان“ نے جوتا اتارا اور اس کے سر پر مارا اور اپنا کارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاگل تو ایک پریس رپورٹر ہے۔ میں تو بیورو چیف ہوں۔

بد قسمتی اور معذرت کے ساتھ آج اس وقت صحافت کا ہر جگہ یہی حال ہوا ہے۔ میری مراد ان صحافیو ں کے با رے نہیں جو آ ج بھی حق اور سچ کا علم بلند کیے ہو ئے عظیم شعبہ، شعبہ صحافت کے ما تھے کا جھومر ہیں بلکہ ان نا م نہاد شرفا اور نام نہاد معززین کے لیے ہے جو اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لیے صحافت کا سہارا لیتے ہیں۔ جیسے ہندو اپنے گناہ، پاپ دھونے کے لیے گنگا جمنا میں اشنان کرتے ہیں اسی طرح یہ لوگ ناجائز کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے صحافت کو گنگا جمنا بنائے ہوئے ہیں لیکن اب تو لگتا ہے کہ صحافت ان لوگوں کے گنا ہ دھوتے دھوتے خود ہی میلی ہوچکی ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر بھی کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے اگر اس حوالے سے جلد از جلد عملی طور پرکچھ نہ کیا گیا تو آ نے والے وقتوں میں پاکستان میں صحافت اور زیادہ پستی کا شکار ہوسکتی ہے۔

Facebook Comments