تحریر:طیبہ شیریں

علی یہ کیا ہر وقت تم فیس بک یوز کرتے رہتے ہو یہ تو بہت غلط بات ہے اس سے نہ صرف تمہاری پڑھائی متاثر ہوتی ہے بلکہ تمہاری زیادہ موبائل استعمال کرنے سے آنکھوں پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تم بالکل ہی فیس بک چھوڑ دو مگر تم گھر کے لوگوں کو بھی وقت دیا کرونا اور اپنے بہن بھائیوں ساتھ مل کر کچھ وقت گزرا کرو۔ سب لوگ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
فیس بک کے دوست مجھے گھر والوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ میری کوئی پوسٹ گروپ میں نہ لگے تو بے چین ہو جاتے ہیں۔ ایک پل بھی نہیں رہ سکتے وہ سب اور صبح آنکھ کھولتے ہی میں جب فیس بک آن کرتا ہوں نا تو بہت سے لوگ جن سے میری رات کو بات نھیں ہوئی ہوتی ان کے میسجز کی بھر مارہوتی ہے۔ پوسٹ پہ بے شمار کمنٹ ہوتے ہیں میری ہر پریشانی اور دکھ میں میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ گھر والے تو ہر وقت ہی ڈانٹتے رہتے ہیں ۔یہ نہیں کرنا، وہ نہیں کرنا۔ ابھی کل ہی کی بات ہے میرا بھائی احمد مجھے کہتا ہے آو¿ بھائی ملکر گیم کھیلتے ہیں۔ میرا دل نہیں کر رہا تھا تو میں نے منع کر دیا۔ گھر والوں نے خوب ڈانٹا۔ یہ بھی کوئی بات ہے بھلا جب موڈ نہیں کھیلنے کا تو کیسے کھیل سکتا ہوں۔

ان سے اچھے میرے فیس بک فرنیڈز ہے میرے موڈ کو سمجھتے تو ہیں۔علی میرے بھائی تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اپنی فیملی کے علاوہ کوئی کسی کا ہمدرد نہیں ہوتااور برے وقت میں بھی صرف اپنے ہی ساتھ دیتے ہیں۔عادل یار پلیز تم مجھے لیکچر دینا بند کرو۔ تم جاو¿ میں نے فیس بک پہ پوسٹ کرنی ہے۔عادل اسے دیکھ کر سو چنے لگاکہ تمہیں کبھی تو میری باتیں سمجھ آ ہی جائیں گیاور وہ اٹھ کر گھر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا ۔

علی فیس بک کا اتنا شیدائی ہوا ہے کہ وہ کبھی کبھی تو اپنا ہوم ورک بھی کرنا بھول جاتا ہے۔اسکول سے بھی اس کی شکاتیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔گھر والے بھی بہت پریشان تھے ۔وہ ہر طریقے سے اسے سمجھا چکے تھے مگر نشے کا علاج نشہ ہی ہوتاہے۔ علی کو چونکہ فیس بک کا نشہ ہو گیاتھا وہ اب مشکل ہی سے ختم ہونے والا تھا۔

آج رات کو بھی علی بہت دیر تک جاگتا رہا ۔صبح دیر سے اٹھنے کی وجہ سے اس کی نماز بھی رہ گئی اور سکول سے بھی لیٹ ہو گیا۔وہ سوچ رہا تھا کیوں نہ آج اسکول سے چھٹی کر لی جائے اور سارا ٹائم فیس بک پر دوستوں کے ساتھ گزا دوں۔علی صبح اٹھ کر ناشتے کی میز پر نہیں آیا تھا اس وجہ سے اس کی امی اس کے کمرے میں گئیں تو انھوں نے پوچھا کہ بیٹا آج سکول نہیں جانا کیا؟نہیں امی جان !میرے سر میں بہت درد ہے میں آج ریسٹ کروں گا۔

دیکھو بیٹا ساری رات اگر تم موبائل فون یوز کرتے رہو گے تو صبح ایسا ہی ہو گا نا۔اففف امی آپ بھی نا صبح ہوتے ہی میرے پیچھے پڑگئی ہیں۔آپ لوگوں سے اچھے میرے یہ فیس بک کے دوست ہیں جو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں۔ اگر میں ابھی اپنی بیماری کی پوسٹ کروں نا تو سارے اتنا پریشان ہو جائیں۔وہ سب میرا اتنا خیال رکھتے ہیں۔ امی نے مسکراتے ہوئے کہا،”بیٹا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔تمہارے یہ دوست صرف فیس بک تک ہی ہیں اور جب تک تم ان کے پیچھے بھاگتے رہو گے یہ تمہارے ساتھ رہیں گے۔اگر دن تم فیس بک نہ یوز کرواور کوئی پوسٹ نہ کرو تو یقین مانو یہ تیسرے دن تمھیں پہچاننے سے انکار کر دیں گے۔ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔فیس بک کی دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیںاور صرف وقت گزاری کے لیے آتے ہیں۔ بیٹا یہ فون کہ رشتے بس ٹائم پاس ہوتے ہیں۔یہ خون کے رشتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر میری باتوں کا یقین نہ آئے تو تم اپنی فیس بک صرف تین دن بند کر دو دیکھ لینایہ لوگ تمھیں ایسے بھولیں گے جیسے تم کبھی تھے ہی نہیں۔نہیں امی ایسا ناممکن ہے۔ میرا اتنا خیال رکھنے والے دوست مجھے تین دن میں … 

نہیں بھول سکتے۔بیٹا تم آزما کہ دیکھ لو۔ تین دن بعدعلی نے اپنی فیس بک آن کی۔اس کے کسی دوست نے ایک میسج بھی نہیں کیا۔نہ ہی کہیںپوسٹ لگی کہ علی تم کہاں ہو؟ہم تمہیں مس کر رہے ہیں۔وہی دنیا تھی مگر اس میں علی نہیں تھا۔علی نے پوسٹ لگائی اور کچھ گھنٹوں کے بعد جب دیکھا تو جسٹ ایک دو لائکس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔اس نے اپنے سب سے اچھے دوست کو میسج کیا تو اس کے میسج کا جواب نہیں دیا اسی طرح اپنے باقی دوستوں کو میسج کیے مگر سب ہی اپنے کاموں میںمصروف تھے۔کسی نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ علی تم اتنے دن کدھر غائب تھے؟ پھرعلی کی سمجھ میں آیا کہ فیملی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ۔فون کے رشتوں سے زیادہ اہم خون کے رشتے ہوتے ہیں۔

اس نے اسی ٹائم فیس بک سے کنارہ کشی کی اور اس وقت اسے احساس بھی ہوا کہ سب لوگ ٹھیک ہی کہتے تھے کہ یہ ایک فرضی دنیا ہے اس دنیا میں کوئی بھی کسی کی خبر نہیں رکھتا سوائے اپنوں کے۔ اس نے اپنی ماں سے معافی بھی مانگی جس کی وجہ سے وہ اپنی فیملی کی قدر جان پایا تھا۔ باقی سب فیملی ممبرز سے معافی بھی مانگی اور اپنے بہت سے ادھورے کام بھی مکمل کرنے کے لیے خود کو تیار کیا۔

Facebook Comments