تحریر: ام محمد عبد اللہ

کامران اپنے ابا کے ساتھ مارکیٹ آیا ہوا تھا کہ کھلونوں کی ایک دکان کے سامنے جیسے اس کے قدم جم گئے۔ ”ابا جی،وہ والا جہاز دلا دیں نا مجھے“۔ اس نے بڑے سائز کے ریمورٹ کنٹرول جہاز کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولے، ”نہیں بیٹے یہ میں نہیں دلا سکتا آپ کو، اسکول کی فیس جمع کروانی ہے ابھی“۔  وہ منہ بسور کے رہ گیا۔ ”امی جی وہ دکان میں اتنا خوبصورت جہاز دیکھا ہے میں نے۔ ریمورٹ سے چلتا ہے۔ آپ مجھے لے دیں“۔ گھر واپس آکر اس نے اپنی امی سے ضد کی۔ ”نہیں بیٹے، جس جہاز کی تم فرمائش کر رہے ہو وہ بہت مہنگا ہے۔ میں نہیں خرید کے دے سکتی“۔  ابا جی کے انکار کے بعد امی نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا۔ وہ بجھے دل کے ساتھ باہر صحن میں آگیا۔ یہاں دادا جان اپنی مخصوص چارپائی پر بیٹھے کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ اس کا دل چاہا وہ دادا جان سے جہاز کی فرمائش کرے لیکن ان کی سنجیدگی دیکھ کر وہ ایسا نہ کر سکا۔

اداسی نے چاروں جانب سے اس کے ننھے سے دل کو جکڑ لیا۔ وہ مرے ہوئے قدموں چلتا ہوا باہر چمن میں آبیٹھا۔ آج اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ تتلیاں، پھول اور کبوتر جو چمن میں ہمیشہ اس کے لیے کشش کا باعث بنتے آج بے کیف ہو گئے تھے۔ تنکے سے مٹی کریدتے ہوئے اس کا دل جہاز چلانے کو مچل رہا تھا۔ ایسے میں مسجد سے اذان عصر سنائی دینے لگی۔ اللہ اکبر اس نے مؤذن کے ساتھ الفاظ دہرائے اللہ اکبر اللہ سب سے بڑا ہے ۔ وہ خود کلامی کرنے لگا سب سے بڑا، مجھ سے بڑا، میرے سے تو سب ہی بڑے ہیں۔ وہ ہنس دیا۔ اچھا اللہ بڑا ہے، سب سے بڑا
میری امی سے، میرے ابو سے، دادا ابو سے بھی بڑا۔ وہ مسکرایا۔ اللہ بڑا ہے سب سے بڑا اس درخت سے، سامنے والے پہاڑ سے، سورج سے، اس آسمان سے۔

وہ سب سے بڑا ہے ہر چیز سے بڑا اسکی سوچیں آگے بڑھنےلگیں۔ اللہ کے پاس ہر چیز ہے۔ اللہ ہی کی ہر چیز ہے۔ یہ ہی بتایا تھا ناں اس دن استاذہ نے تو پھر وہ جہاز بھی اللہ کا ہے۔ اس کےذہن میں جھماکہ ہوا۔ وہ جوش سے کھڑا ہوگیا۔ جس کی ہر چیز ہے اس سے مانگوں گا تو ضرور ملے گی۔ بس میں صرف اس سے مانگوں گا، صرف اسی سے۔ اس نے خود کو سمجھایا۔ اللہ سے کیسے مانگتے ہیں؟ ہاں نماز پڑھتے ہیں دعا مانگتے ہیں۔ وہ بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ جلدی سے وضو کیا۔ نماز عصر ادا کی۔ دعا کی باری آئی تو اپنے پیارے پیارے ہاتھ اللہ کے آگے پھیلاتے ہوئے بہت مان سے بڑے سے جہاز کی فرمائش کر ڈالی۔ اس کا خیال تھا وہ جیسے ہی دعا کر کے جائے نماز اٹھائے گا وہاں جہاز موجود ہوگا۔ لیکن وہاں کچھ نہ تھا۔

اللہ جی جہاز دلا دو ناں اس نے اپنی کتابوں کی الماری اس یقین کے ساتھ کھولی کہ اللہ تعالی نے کہیں الماری میں اس کے لیے جہاز چھپا دیا ہوگا۔ اب تو یہ اس کا معمول سا بن گیا وہ چپکے چپکے اللہ تعالی سے جہاز مانگتا اور جوابا ہر جگہ جہاز ہی کی امید لیے ہوتا۔ لیکن جہاز تھا کہ اسے مل ہی نہیں رہا تھا۔ ”پیارے اللہ تعالی جی! امی ابو کے پاس پیسے نہیں ہیں، میں انہیں تنگ نہیں کروں گا لیکن آپ کے پاس تو سب کچھ ہے ایک جہاز ہی کی تو بات ہے دلا دیں نہ مجھے۔ دل ہی دل میں اللہ تعالی سے جہاز کی ضد کرتا اب وہ اپنے پلنگ کے نیچے جہاز کی تلاش میں جھانکنے لگا تھا کہ دادا جان کھانستے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ کامران میاں! یہاں آو، دیکھو تو میں کیا لایا ہوں۔ جہاز، دادا جان جہاز لائے ہوں گے وہ تقریبا بھاگتا ہوا دادا جان کے سامنے جا کھڑا ہوا دکھائیں ناں دادا جان ،اسنے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،یہ لو! سامنے والی دیوار پر لگا دو۔

انہوں نے ایک خوبصورت کیلنڈر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ یہ کیا؟ اس کو دھچکا سا لگا۔ یہ دیکھو کیسے خوبصورت پھول بنے ہیں اس پر، ساتھ ہی ہر صفحے پر ایک حدیث بھی لکھی ہے۔ دادا جان نے کیلنڈر واپس اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے خود ہی دیوار پر لگا دیا۔ پڑھو تو کیا لکھا ہے؟ اس کی دل کی دنیا سے بےخبر دادا جان اس سے باتیں کیے جا رہے تھے۔ وہ بے دلی سے کیلنڈر کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ سرخ اور سفید گلابوں کے ساتھ لکھے ہوئے خوبصورت الفاظ کیلنڈر کو جگمگا رہے تھے۔

قبولیت دعا کی مختلف صورتیں: ارشاد باری تعالی ہے، ”اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاوں کو قبول کروں گا“۔(غافر:60) لیکن دعا کی قبولیت کی تین مختلف صورتیں ہیں جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ”جب بھی کوئی مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ یا صلہ رحمی نہ ہو، تو اللہ رب العزت تین باتوں میں سے ایک ضرور اسے نوازتے ہیں یا تو اس کی دعا قبول فرما لیتے ہیں یا اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتے ہیں اور یا اس جیسی کوئی برائی اس سے ٹال دیتے ہیں۔ صحابہ کرام نے فرمایا، پھر تو ہم بکثرت دعا کریں گے۔ تو نبی صلی اللہ ۔علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ عطا کرنے والا ہے“ (احمد:18/3) بے دلی سے پڑھے جانے والے الفاظ اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آرہے تھے جبکہ دادا جان یقین سے ہر لفظ کے ساتھ سر ہلا رہے تھے۔

پھر گاوں سے اسکے چچا اپنے بچوں کے ہمراہ کامران کے گھر کچھ دن رہنے کے لیے آگئے۔ ان سے مل کر وہ بہت خوش ہوا۔ خاص کر اپنے ہم عمر علی سے تو اس کی دوستی ہوگئی۔ علی اپنے ساتھ اپنی کتابیں اور فٹبال بھی لایا تھا۔ اسکول سے چونکہ چھٹیاں تھیں تو وہ صبح کے وقت مل کر پڑھائی کرتے اور شام کو فٹ بال لیے قریبی میدان میں چلے جاتے۔ وہ دونوں کامران کے اور دوستوں کے ساتھ مل کر خوب کھیلتے۔ اس گہما گہمی میں جہاز کا خیال رفتہ رفتہ اس کے ذہن سے محو ہونے لگا۔

حسب معمول صبح کے وقت وہ پڑھنے بیٹھے تو علی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ چپکے سے اللہ تعالی سے کچھ مانگنے کے بعد وہ سنجیدگی سے اپنی کتابیں کھولنے لگا علی بھائی ایک بات پوچھوں؟ کامران جو روزانہ اسے دعا مانگتے دیکھتا تھا آج اس کے متعلق جاننا چاہتا تھا۔ پوچھو! علی اسکی جانب متوجہ ہوا۔ آپ نے اللہ تعالی سے کیا دعا مانگی؟ ”کامی بھائی! ابو جی کہتے ہیں ہم مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے میں بڑا ہو کر سائنسدان بنوں اور اپنی قوم کا نام روشن کروں۔ میں اللہ تعالی سے دعا مانگتا ہوں کہ وہ مجھے ایک سائنس دان بنا دے“، کامران حیرت سے علی کو دیکھنے لگا۔ اس کی دعا سے کتنی مختلف دعا تھی علی کی۔ ”ابو جی یہ بھی بتاتے ہیں کہ دعائیں وہ قبول ہوتی ہیں جن کے ساتھ مسلسل عملی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لیے میں اللہ تعالی سےدعا بھی مانگتا ہوں اور پڑھائی بھی بہت محنت سے کرتا ہوں‘‘۔ علی جاتے ہوئے اپنا فٹبال کامران کو دے گیا۔

یہ میری طرف سے تمہارے لیے۔ جب شام کو دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنا تو مجھے ضرور یاد کرنا۔ یہ بہت دلچسب کھیل ہے۔ میں جب گاوں جاوں گا تو علی کے لیے بہت اچھا ساتحفہ لے کر جاوں گا۔ گراونڈ میں فٹبال کو ٹھوکر مارتے ہوئے وہ جہاز کو تقریبا بھول چکا تھا۔ امتحانات شروع ہوئے تو علی اور فٹ بال بھی پیچھے رہ گئے۔ کل اس کا پہلا پیپر تھا۔ اس نے کتاب کھولی۔ ”مجھے سائنسدان بننا ہے، میں بہت محنت سے پڑھائی کرتا ہوں“۔ علی کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجے مجھے کیا بننا ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ ماحول میں کسی جہاز کے اڑنے کی آواز گونجنے لگی تھی، وہ جہاز کو دیکھنے کے لیے دوڑ کر صحن میں آگیا۔ دور بلندیوں کی جانب پرواز کرتا جہاز۔ ”اللہ جی ! جہاز دلا دو ناں۔ میں بہت محنت سے پڑھوں گا۔“ فٹ بال کے ساتھ علی جاتے ہوئے اسے اپنی سوچ بھی دے گیا تھا۔ وہ امتحان کی تیاری کے لیے کتابوں کی جانب پلٹ آیا۔

کیلنڈر پر کئی تاریخیں بدلیں۔ اس کی محنت کتنے ہی امتحانات میں اسکی کامیابی کی ضمانت بنی۔ ایک خوبصورت اور روشن دن وہ اپنے فلائنگ انسٹرکٹر کے ہمراہ کھڑا تھا۔ ”نوجوان ہوا باز! آج سے تمہاری تنہا پرواز کی عملی تربیت کا آغاز ہو گا۔ آگے بڑھو، اپنا جہاز سنبھالو، یہ فضائیں یہ ہوائیں تمہاری ہیں۔ انہیں اپنے شوق پرواز سے تسخیر کرو‘‘۔ اس کے سامنے پاکستان ائیر فورس کا تربیتی طیارہ کھڑا تھا۔ اس کے ہر قدم میں بلا کا اعتماد تھا۔ اس کے کانوں میں اپنے بچپن کی ایک اذان عصر گونجنے لگی تھی۔ اللہ اکبر اور وہ اخلاص سے پڑھی گئی نماز اور وہ مان سے مانگی ہوئی دعائیں اللہ جی مجھے بڑا سا جہاز دلا دو ناں۔ جہاز میں پائلٹ کی سیٹ سنبھالتے ہوئے تشکر کے کئی آنسو چپکے سے پلکوں کے بند توڑ کر رخساروں کو چھونے لگے۔

وہ بے اختیار ہو کر دل کی گہرائیوں سے پڑھنے لگا اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ اس نے مانگنے والوں کو کب خالی دامن لوٹایا ہے کہ کامران تہی دامن رہ جاتا۔ جہاز ہوا میں پرواز کر رہا تھا۔ بلندیوں کی جانب۔ اس کے ساتھی ہوا بازوں میں سے کوئی کہہ رہا تھا۔ وہ دیکھو کامران کا جہاز کتنی بلندی پر چلا گیا ہے۔

Facebook Comments