دل کو روؤں کہ جگر کو پیٹوں


تحریر : انیلہ افضال

آہ! سولہ دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن۔ دل کو روؤں کہ جگر کو پیٹوں کے مصداق مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ 1971 میں زیادہ نقصان ہوا یا 2014 میں ہائے میرا وطن! اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا وطن! کہ جسے اسلام ہی کے نام لیواؤں نے چھلنی چھلنی کر دیا۔  میرے خیال میں تو سانحہ پشاور کے بیج سقوط ڈھاکہ کے وقت ہی بو دیے گئے تھے۔ بس یہ سروں کی فصل ہم نے 2014 میں کاٹی ہے۔

مجیب الرحمٰن کی ناتجربہ کار نوکر شاہی کے چھ نکات، بھٹو کی للکار، اردو بنگلہ کا تنازع، مشرقی پاکستان جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکیاں، ادھر ہم ادھر تم کے نعرے، صوبہ بنگال کے عوام کا احساس محرومی، کیا کیا گنیں گے اور یہ تمام حالات عوام یا چند  ’’نامعلوم شر پسند عناصر‘‘ کے پیدا کردہ حالات نہ تھے بلکہ ملک کی دو بڑی پارٹیوں کی ہوس اقتدار کا نتیجہ تھے- مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کو نا گزیر خیال کیا گیا- اگر اس وقت کے حکمران بیورو کریٹس، سربراہان افواج اور سیاست دانوں نے اپنے فرائض کو سمجھا ہوتا تو ان دونوں سانحوں سے بچا جا سکتا تھا- سقوط ڈھاکہ کی وجوہات جاننے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کی رپورٹ کے جو حصے شائع کیے گئے ان کو پڑھ کر ہی الامان الحفیظ کی صدا بلند ہوتی ہے تو فکر کا مقام تو یہ ہے جو حصے خفیہ رکھے گئے ہیں ان کے مندرجات کیا ہوں گے اور وہ حقائق کس قدر خوفناک ہوں گے۔

اگر 1971 میں مشرقی پاکستان کے عوام کو نظر انداز اور پھر ناراض نہ کیا جاتا تو سانحہ ڈھاکہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ یہ احساس محرومی ہمارے بقیہ صوبوں میں بھی پلنے لگا۔ جس نے بالآخر پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں جھونک دیا- اس جنگ نے ہمارے وسائل پر ہاتھ صاف کر کے ہمارے مسائل میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا۔ دوسروں کی لڑائی لڑتے ہوئے ہم اپنے جوان تو قربان کر ہی رہے تھے مگر دشمن کا پیٹ ہمارے جوانوں کی قربانیوں سے کہاں بھرنے والا تھا اسے تو ہمارے تازہ لہو کی پیاس تھی اور یہ پیاس اس نے 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس کے بچوں کے لہو سے بجھائی۔ دشمن کا خیال تھا کہ اس طرح وہ ہمارے مستقبل کو برباد کر دے گا مگر نادان نے انجانے میں وطن عزیز کے تمام بڑوں کو ایک صفحے پر متحد کر دیا۔ سیاسی اور عسکری قیادت نے مشترکہ عزائم کا اظہار کیا  اور دھشتگردی کے خلاف ہماری جنگ نے ایک نیا موڑ لیا۔ دشمن کا خیال تو یہ تھا کہ اب اس وطن میں بہار کبھی نہ آئے گی (خدا نخواستہ) کہ اپنی دانست میں اس نے ننھی کونپلوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا تھا مگر ہمارے یہ ننھے پھول جاتے جاتے یک جہتی کے پودے کو اپنے لہو سے سیراب کر گئے انہوں نے اپنی جان تو جان آفریں کے سپرد کر دی مگر قوم میں نئی روح پھونک دی۔

اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ وطن عزیز کو کسی اور سولہ دسمبر کی نحوست سے بچانے کے لیے بھر پور کوششیں کریں کیونکہ پاکستان کی مائیں اس وطن عزیز کے لیے دو بار اپنی گودیاں اجاڑ چکیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنا سبق نہ سیکھا اور جرم اور مجرم پر پردہ ڈالنے کی روایت نہ بدلی تو خدانخواستہ ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

Facebook Comments