عارف رمضان جتوئی


امداد یونیورسٹی کے لیے نکلتا تو راستے میں بہت کچھ دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور پھر حالات کے بہاو میں کھو کر سب کچھ بھلا دیتا۔ اس نے بوڑھے ریڑھی بان کو پھل بیچتے ہوئے بھی دیکھا، چائے کے ہوٹل پر میز صاف کرتے معصوم بچے کو بھی مگن پایا۔ وہ موٹر سائیکل پر بیٹھے بے فکر پان گٹکا تھوکتے موٹے آدمی کو بھی سمجھانا چاہتا تھا اور بڑی سی گاڑی میں بیٹھے جلتی سگریٹ کا بٹ بغیر دیکھے گاڑی سے باہر پھینکنے والے باس سے بھی کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اسے حکومت کی کرپشن پر بھی اعتراض تھا اور گلی کے کونے میں چھوٹی سی دکان والے کے ترازو کے جھول پر بھی تکلیف ہوتی تھی۔ روز ہی بہت کچھ اس کے دل میں آتا اور نکل جاتا۔ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے؟ وہ ہمیشہ اسی ہاں اور نے کے بیچ اٹکا رہتا۔ اس کے دماغ میں چلتی اس ہلچل کو اس کے یونیورسٹی ہم جماعتیوں نے بھی محسوس کیا۔ کوئی ”چِل کر“ کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دیتا تو کوئی اس پر آواز اٹھانے کی بات کرتا۔ وہ بھی چاہتا تھا کہ اس پر قلم اٹھائے مگر کیسے؟ لکھے تو کیسے اور بھیجے تو کہاں؟

ایک روز سوشل میڈیا پر ”رائٹرز کلب“ کے نام سے ایک پیج دیکھا۔ نئے لکھنے والوں کے لیے قلمی معاونت کے ٹیگ سے مزین اس پیج نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس پیج کے ایڈمن سے بات کرنے کو دل مچلا اور پھر میسج کردیا۔ جواب مثبت ملا اور یوں اردو یونیورسٹی کے اس طالب علم نے اپنے قلمی سفر کا آغاز کردیا۔ ابتدا میں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، کبھی تحریر کا عنوان سمجھ میں نہیں آیا تو کبھی وہ اس کے ابتدائیے میں اٹک گیا، کبھی اسے لگتا وہ اختتام درست نہیں کر پایا مگر ”جہد مسلسل کامیابی کا بہترین زینہ ہے“ پر عمل کرتا رہا اور کامیابی بھی ملی۔

امداد کا یہ سوال کہ وہ لکھے تو کیسے اور بھیجے تو کہاں؟ ایک ایسا سوال ہے جو یقیناً ہر نئے لکھنے والے یا پھر اس شعبے سے لگاو رکھنے والے کے دماغ میں ہوگا۔ بہت کم ہوں گے جنہیں اس سوال کا جواب اور پھر رہنمائی بھی میسر ہوگی مگر بہت سارے ان دونوں سوالوں کے بیچ رہ کر شاید اب تک اپنے قلمی سفر کا آغاز ہی نہ کرپائے ہوں گے اور بہت سارے اسی میں رہ کر شاید کبھی نہ لکھ پائے ہوں گے۔ اگر وہ لکھتے تو شاید کئی لکھنے والوں سے کہیں بہتر اور اچھا لکھ رہے ہوتے۔ یہاں پر دو باتیں اہم ہیں: ایک طرف وہ جس کے دل میں سوال ہیں کہ وہ کیسے لکھے اور کہاں بھیجے؛ اور دوسرا کیا کوئی ان سوالوں کے جواب دینے یا جواب بننے والا ہے؟

ابتدائی طور پر قلم اٹھانے والے کی کیفیت بالکل ایسے ہوتی ہے کہ جیسے ڈوبنے والے کی۔ ڈوبنے والے کو بھی تنکے کا سہارا چاہیے ہوتا ہے اور اسے بھی کوئی ہلکا سا سہارا مل جائے تو یہ بھی قلم کو تھام کر چل پڑتا ہے۔ پھر ان دونوں میں ایک بات یہ بھی یکساں ہے کہ ڈوبنے والا زندگی سے جاتا ہے اور معاشرے کی اصلاح نہ کرنے والا اخلاقیات سے جاتا ہے۔ وہ نظریاتی طور پر مرتا چلا جاتا ہے جو شاید جان جانے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

لکھنے کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ کچھ شوق کے لیے لکھتے ہیں، کوئی تشہیر کے لیے تو کوئی پیج کا پیٹ بھرنے کے لیے قلم اٹھاتے ہیں۔ مگر ان سب میں اہم ہے نظریات اور معاشرے کے لیے لکھنا۔ یعنی جو آپ لکھ رہے ہیں وہ کم از کم قاری کی ذات کو تو فائدہ دے۔ آپ کے لکھے ہوئے میں معلومات کی فراہمی ہو یا پھر آپ بطور قلم کار معاشرے کے لیے نظریاتی ڈاکٹر ہوں۔ یہ ایک طویل بحث ہے کہ کیا لکھنا اور کیا نہیں لکھنا چاہیے تاہم یہاں بات ہورہی ہے ”کیسے اور کہاں بھیجنے“ کی۔

امداد کو ایک گروپ مل جاتا ہے تو وہ اپنے قلمی سفر کا آغاز کردیتا ہے، اس طرح کسی بھی لکھنے کا عزم رکھنے والے کو کوئی سہارا مل جائے تو وہ اپنے قلم کے ہنر کو خوب آزما سکتا ہے۔ ”رائٹرز کلب“ کی قلمی خدمات اگرچہ زیادہ نہیں مگر وہ سوشل میڈیا پر لکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کےلیے اس وقت بہترین فورم ہے۔ اس فورم نے لکھنے والوں اور کوشش کرنے والوں کےلیے دو طرح سے کام کیا۔:ایک تو ان کی بھیجی گئی تحریر کی اصلاح کی اور پھر وہ تحریر قومی اخبارات میں بھیج کر شائع کرائی۔ یہ کام اس طرح اہم تھا کہ تحریر جیسی بھی ہو، جب وہ چھپتی ہے تو اس کے بعد لکھنے والے میں ایک ہمت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ اس میں جستجو بڑھتی ہے اور وہ مزید اچھے سے اچھا کرکے لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

”رائٹرز کلب“ جیسے دیگر بہت سے فورم سوشل میڈیا پر کام کررہے ہیں۔ ان میں کچھ غیر سنجیدہ تو کچھ سنجیدہ ہوکر لکھنے والوں کو اچھا راستہ دِکھا رہے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے اور باعث تشویش بھی کہ اس وقت دیگر شعبوں کی نسبت شاعری اور نثر نگاری کا شعبہ اہل قلم و علم کی توجہ سے بالکل محروم ہے۔ الیکٹرونک میڈیا، اخبارات اور رسائل و جرائد میں اردو میں لکھنے والوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہے مگر ان کے لکھے ہوئے کا معیار گویا ”صفر“ ہے۔ پورے پورے پیراگراف اور جملے سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں۔ رموزِ اوقاف کا خیال تو کوئی رکھنا ضروری بھی نہیں سمجھتا اور نہ کبھی کسی اخبار کے ایڈیٹر اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ صف اول کے اخبارات تک اب اس بات کا خیال نہیں رکھتے۔

اس میں قصور کس کا ہے؟ قصور ہے بھی یا نہیں؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ آج کے بیشتر لکھنے والے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کا ارادہ بھی تو نہیں رکھتے۔ انہیں اس بات کی فکر ہی نہیں کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اور کیوں لکھ رہے ہیں۔ کئی ایک آرٹیکل شروع سے لے کر آخر تک پڑھنے کے بعد سمجھ میں ہی نہیں آتے کہ موصوف قلم کار آخر کہنا کیا چاہتے ہیں۔

بات دوسری طرف نکل گئی لیکن سوال تو یہ تھا کہ کیسے لکھیں؟ اس کے لیے بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ بس لکھنا شروع کردیجیے۔ جب بہت بار لکھنے کے بعد اندازہ ہوجائے کہ اب کچھ بہتری آئی ہے تو اسے کئی بار خود پڑھیے۔ اپنی طرف سے پوری کوشش کے بعد کسی اچھے قلم کار کو پڑھوائیے۔ تصحیح کرانے کے بعد اسے اخبارات کو بھیجئے۔ ہر اخبار کے ادارتی صفحے پر ای میل ایڈریس موجود ہوتا ہے۔ جسے بھیجنا ہے، اس کا ای میل لیجیے اور تحریر بھیج دیجیے۔

اچھا لکھنے کے لیے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اچھا لکھنے کی کوشش بہت ضروری ہے۔ ہمارے استاد محترم کے مطابق، روز کچھ نہ کچھ لکھیے اور اس کی اصلاح کراتے رہیے۔ ڈانٹ پڑنے پر گھبرائیے نہیں بلکہ اور اچھا کرکے لکھیے۔ یاد رکھیے کہ معاشرے کی اصلاح ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ پہلے خود کی اصلاح کیجیے اور پھر اپنے قلم سے دوسروں کی اصلاح کا عزم کرتے ہوئے لکھیے اور ضرور بالضرور لکھیے۔ اہل قلم بھی اس بات کی طرف توجہ دیں کہ وہ نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کروائیں، ایڈیٹر حضرات و محترمات لکھاری کی تحریر کو درست کرتے وقت انہیں بتائیں کہ وہ کیا غلطی کرتے ہیں۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook Comments