شاعرہ: آمنہ وزیر امن

اتنے سناٹے میں شور کیسا ہے
چلتےچلتےادھر بھی دیکھا
ادھر بھی دیکھا، تو ملا کچھ  نہیں
ارے ہاں! یہاں تو کچھ  نہیں
پھر یہ آوازیں کیسی ہیں
ہاں یہ آوازیں کیسی ہیں
اتنے سناٹے میں شور کیسا ہے
یہ رستے کیوں انجان ہیں
یہ کون سمجھا رہا ہے
یہ کون بتا رہا ہے
میں کس منزل کی طرف ہوں رواں
یہ گرتے گرتے کس نے سنبھال لیا
میرا رہبر کہاں ہے
میری نگاہ کو جو دکھائی نہیں دیتا
لیکن میرے ساتھ  بھی ہے
یہ کس کا ساتھ ہے
جوہرجگہ میرےساتھ ہے
تنہائی میں رہنما ہے
گھبرا جاوں تو ہے سہارا بھی
جہاں کہیں میں ڈگمگا گئ، میرا ہاتھ تھام لیا
اور مجھے صراط مستقیم کی طرف بڑھا دیا
ہر لمحہ جو میرے قریب ہے
امن! وہ تیرا خدا رب جلیل ہے

Facebook Comments