خوف الٰہی ہی عین عبادت ہے


تحریر: دیا خان بلوچ

کسی بھی کام کو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو مکمل توجہ اور خلوص کے ساتھ کیا جائے، تب ہی اس کو اچھے سے نبھایا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر کسی کام کو بد دلی اور لاپرواہی کے ساتھ کیا جائے یا اس میں عدم دلچسپی ہو تو اس کو کرنے کا لطف بھی نہیں آتا اور اس کو احسن طریقے سے سر انجام بھی نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے نتائج بھی ہماری منشاء کے مطابق نہیں ہوتے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمیں اتنا ہی پھل ملتا ہے جتنی ہم اس میں محنت اور وقت دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح عبادت میں تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ عبادت خا ص اللہ کے لیے ہے اور اس کو جتنے خلوص سے کیا جائے اس کا فائدہ ہماری سوچ سے بڑھ کر ملتاہے۔ سب سے بڑا انعام اس پاک ذات کا قرب حاصل ہونا ہے جو تمام دنیا کا خالق و مالک ہے۔

تقویٰ بڑی اونچی اور بیش بہا صفت ہے اور ساری مطلوبہ صفات کی جامع بھی۔ جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہوں ان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیوں کی ضمانت دی ہے۔ تقویٰ وہ چیز ہے جس سے ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ ملتا ہے۔تقویٰ پرہیز گاری ہے اور پرہیز گار ی ہمیں جنت کے راستے کی طرف لے جاتی ہے۔

تقویٰ قلب و روح، شعور وآگہی، عزم و ارادہ ،ضبط و نظم اور عمل و رکردار کی اس قوت اور استعداد کا نام ہے جس کے بل پر ہم اس چیز سے رک جائیں جو غلط ہو اور اس چیز پر جم جائیں جو صحیح ہو۔ تقویٰ، غیب پر ایمان کا نام ہے، ہم نے اکثر و بیشتر پڑھا کہ جھوٹ بولنے سے زبان آگ میں جل رہی ہے، اس آگ کا ہمیں کوئی تجربہ نہیں کہ یہ ہمارے سامنے نہیں۔ لیکن ہم جھوٹ بولنا چھوڑ دیتے ہیں صرف اس لیے کہ اس سے اللہ نے منع فرمایا ہے تو تقویٰ ہے، خشیت الٰہی ہے۔ اس بات پر یقین رکھنا کہ جو بھی غلط کام کریں گے اس کی سزا ہمیں ملنی ہے اور اس سزا سے بچنے کے لیے غلط راستے کو چھوڑ دینا ہی تقویٰ کہلاتا ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب انسانی اعمال کا دارومدار صرف نیتوں پر ہے۔ (بخاری) یعنی ہر کام کو کرنے میں نیت کا خالص ہونا ضروری ہے۔ نیت میں اخلاص ہو گا تو اس کا انعام بھی بہت زیادہ ملے گا۔ خالی عمل سے کچھ نہیں ملتا نیت کا خالص ہونا بھی ضروری امر ہے۔

اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ ہر اچھا کام یا کسی کے ساتھ اچھا برتاﺅ صرف اس لیے کیا جائے کہ ہمارا خالق و پروردگار ہم سے راضی ہو، ہم پر رحمت فرمائے۔ اخلاص کا تعلق دل سے ہے جس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ اخلاص کو عمل میں اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ جس طرح تعمیر اساس کے بغیر اور جسم سر کے بغیر بے کار ہے اسی طرح اعمال اخلاص کے بغیر بے کار ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ جب ان کو یمن کی جانب بھیجا جا رہا تھا تو انہوں نے آپﷺ سے عرض کیا :”اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے نصیحت کیجیے“، تو آپ ﷺ نے فرمایا:” دین میں (یعنی دین کے اعمال میں) اخلاص پیدا کرو، تھوڑا عمل بھی کافی ہو جائے گا“۔

خشیت الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر، یعنی ہر اس کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچنا کہ کیا اس سے ہمارا رب ہم سے ناراض تو نہیں ہو جائے گا؟ کہیں ہم اس کے ناپسندیدہ بندوں میں تو شامل نہیں ہو رہے ہیں؟ اس کی رضا بہت ضروری ہے۔ اللہ کا خوف ہوگا تو کوئی بھی غلط کام نہیں ہوگا۔ جب اس بات پر یقین کامل ہو کہ اللہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو ہر برائی کرنے سے پہلے ہم سوچیں گے۔ انسان خطا کا پتلا ہے اور ہمارا رب ہماری فطرت بخوبی جانتا ہے۔ اس لیے رب ِ کائنات نے ہمارے لیے معافی کا در کھلا رکھا ہے، ایک بار تو بہ کرنے بعد اگلی بار گناہ کرنے سے پہلے ہمیں اللہ سے حیا آتی ہے اور اس کے روٹھ جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے جو ہمیں گناہ کی طرف بڑھنے سے روک دیتا ہے۔

عبادت خالص صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اس میں کسی قسم کی نمود و نمائش کی جائے تو اس میں اخلاص نہیں رہتا ہے، ایسی عبادت صرف دکھاوا ہے جس کادنیاوی فائدہ ہے لیکن آخروی کوئی فائدہ نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایک دوسرے کو اپنی نمازوں ،صدقہ و خیرات، روزوں اور نوافل کا جتا تے ہیں۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق عبادت کرتا ہے، کوئی کم کرتا ہے تو کوئی زیادہ۔ عبادت وہی مقبول و قبول ہو گی جس میں تقویٰ، اخلاص اور خشیتِ الٰہی ہو۔ اگر عبادت شہرت، دکھاوے یا کسی اور مقصد کے تحت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی کوئی قدروقیمت نہیں۔

جس طرح ہمیں اپنے کسی ساتھی کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ ہمارے ساتھ مخلص نہیں تو ہم اس کے ساتھ رابطہ نہیں رکھنا چاہیں گے، یہ تو ایک چھوٹی سی نیاوی مثال ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ کو بھی ہماری ان عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں جن میں دکھاوا ہو۔ عبادت میں اخلاص تو یہ ہے کہ ادھر اذان ہو اور ہم سب کام چھوڑ کر اپنے رب کی رضا و خوشنودی حاصل کر نے کے لیے فوراً لبیک کہیں۔ تقویٰ تو یہ ہے کہ اپنے نفس کو مار دیا جائے۔اپنی سوچ کو پاکیزہ رکھا جائے، اپنے ہرعمل کو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ عبادت صرف نماز، روزہ ،حج، زکوة یا وہ عمل نہیں جن کو سب دیکھ سکتے ہوں۔ عبادت تو والدین کو مسکرا کر دیکھنا بھی ہے ان سے اچھا سلوک بھی عبادت ہے۔

عبادت دو طرح کی ہے ایک فرض عبادت اور ایک نفل عبادت۔ دونوں طرح کی عبادتوں میں تقویٰ، اخلاص اور خشیتِ الٰہی اولین ترجیح ہے۔ الغرض عبادت میں تقویٰ، اخلاص اور خشیت الٰہی کا ہونا لازم ہے۔

Facebook Comments