تحریر: بلال شیخ


ریحان غصے کی حالت میں بس میں چڑھا۔ اس نے ہاتھ میں موٹی سی ایک فائل پکڑی ہوئی تھی جو کہ اس کی زندگی کا سرمایہ تھی۔ منہ میں بڑ بڑاتا ہوا بس کے اندر داخل ہوا، سیٹ خالی ملتے ہی اس پر دھڑام کر کے بیٹھ گیا جیسے وہ بہت تھک گیا ہو مگر وہ تھکا ہوا نہیں تھا، اکتایا ہوا تھا۔ پاس بیٹھا شخص جو کہ کوئی انگلش کتاب پڑھ رہا تھا ۔ وہ کتاب پڑھنے میں کافی مگن تھا  اس نے ریحان کی طرف نظر دوڑائی اور مسکراتے ہوئے پھر اپنی کتاب پڑھنا شروع ہو گیا۔ ریحان انتہائی غصے میں تھا آج بھی وہ جاب کی تلاش میں نکلا تھا مگر جاب نہ ملنے کی وجہ سے خالی ہاتھ واپس جا رہا تھا، پچھلے کئی مہینوں سے ذلیل ہو رہا تھا۔جاب ملتی تھی تو تنخواہ اچھی نہیں ملتی تھی اور اگر کہیں تنخواہ بہتر ہوتی تو وہاں ریحان ان کے معیار پر نہ اترتا تھا۔ اسی مسئلے کو لے کر وہ کافی ڈپریشن میں تھا۔

”کوئی حال نہیں اس قوم کا پڑھنے لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں“، ریحان نے منہ میں بڑبڑایا۔ ریحان نے دیکھا اس کے پاس بیٹھا شخص جس کی چھوٹی سی داڑھی تھی رنگت  سانولی تھی اورسر پر ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ اس کے کپڑوں میں عطر کی خوشبو آرہی تھی اور وہ ہاتھ میں پکڑی انگریزی کتاب پڑھ رہا تھا۔اس نے  ریحان کو  دیکھا تو ریحان اچانک بول اٹھا ،”بھائی صاحب آپ ہی بتائیں کوئی فائدہ ہے پڑھائی کا“ اس نےاتنی بے زاری اور اونچی آواز میں کہا کہ اس شخص کو لگا جیسے اس کا سر پھاڑ دے گا۔

جواباً اس شخص نے بڑے اطمینان سے کہا” کیوں بھائی کیوں نہیں فائدہ پڑھائی کا“، اس شخص نے اپنی داڑھی کے بال کے کو پکڑتے ہوئے کہا۔ ”کیا فائدہ ہے مجھے بتائیں میں ماسٹر کوالیفائڈ ہوں یہ دیکھے میری ڈگریاں“۔ ریحان نے اپنی فائل آگے کرتے ہوئے کہا، ”روز گھر سے نکلتا ہوں جاب کی تلاش میں مگر لگتا ہے آج کل پڑھے لکھے شخص کی کوئی قدر ہی نہیں ہے۔ کوئی پانچ سال کا ایکسپیرینس مانگتا ہے، کوئی دو سال کا اور اگر کوئی جاب پر رکھتا ہے تو تنخواہ اتنی دیتا جتنی شائد کسی چپڑاسی کی بھی نہ ہو اور جہاں خود کی خواہش ہو جاب کرنے کی وہاں کوئی منہ ہی نہیں لگاتا۔ جیسے ان میں غرور ہی بہت ہو۔ اِس ملک میں پیدا ہونا ہی غلطی ہے اور آپ ادھر انگریزی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ مت پڑھے کوئی فائدہ نہیں ”وہ شخص ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھ رہا تھا اور ریحان فرفر بولے جا رہا تھا، جیسے اس کے اندر کی آگ منہ کے ذریعے باہر آرہی ہو۔


اس شخص نے اپنی کتاب کو بند کیا اور ریحان کی طرف مڑ کر بیٹھ گیا۔کچھ لمحے خاموشی سے اس کی بات سننے کے بعد مسکراتے ہوئے بولا ”آپ جاب کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کس قسم کی جاب کر سکتے ہیں“؟ اس شخص نے ادب کے ساتھ کہا۔ 

جو کمپنی اچھی تنخواہ دے سکے، جو پڑھے لکھے شخص کی قدر کرتے ہو اچھے الاونسس دے، ایسی کمپنی میں جاب کرنا چاہوں گا۔ میں نے بی ایس سی میں اول پوزیشن حاصل کی تھی اپنے کالج میں ، آپ خود ہی اندازہ کرے میں کتنا قابل ہو ںگا“، ریحان نے اطمینان اور فخر سے کہا جیسے اس کا جواب سامنے بیٹھے شخص کو متاثر کردے گا۔


مگر اس شخص کے چہرے کے تاثر ات بالکل نہ بدلے۔” آپ کے جواب کو میں سمجھا نہیں ،میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کس طرح کی کمپنی میں جاب کرنا چاہتے ہے بلکہ آپ سے یہ پوچھا آپ کس قسم کی جاب کر سکتے ہیں“؟

اس شخص کی بات سن کر ریحان خاموش ہو گیا اور پریشان بھی۔ وہ پہلے اس شخص کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ریا لیکن جب وہ ناکام رہا تو اس نے پوچھ لیا، ” میں سمجھا نہیں“ ریحان نے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔ یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی آپ کی قدر نہیں کر رہا اور گناہ تصور کرتے ہیں ایسے ملک میں پیدا ہونا ۔ آپ کو لگتا ہے یہ کاغذوں کا ڈھیر آپ کی صلاحیتوں کی دلیل ہے اور آپ اس کو کہیں بھی لے جا کر اپنی تعریفیں اور ڈھیر سارا پیسہ اکھٹا کر سکتے ہیں ۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔ آپ کے دو ہاتھ ہیں، دو پاوں ہیں اچھے خاصے ہیں اور پھر بھی بے روزگار ہیں تو اس میں ملک کا نہیں آپ کا قصور ہے۔


آپ اپنے آپ کو چپڑاسی سے بہتر محسوس کرتے ہیں مگر پھر بھی بے روزگار ہیں، پڑھا لکھا ہونےپر فخر محسوس کرتے ہیں مگر اخلاق کے معاملے میں غریب ہیں۔ آپ اپنے ہنر کو پہچانیے اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو گھر میں بچوں کو ٹیوشن دیں اور اگر اچھا ذہن رکھتے ہیں تو کوئی چھوٹا کاروبار شروع کریں اگر گاڑی چلانی آتی ہے تو ڈرائیوری کریں۔ کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا ہر چیز کا وقت مقرر ہوتاہے ، آپ اپنے آپ کوہنر مند بنائیں۔ یقین مانیں کبھی  بھوکے نہیں رہیں گے“، اس شخص نے لمبی سانس لی۔

ریحان خاموشی سے اس کی بات سن رہا تھا وہ خاموش ہوا تو ریحان بولا، ” دیکھیں جناب! باتیں کرنی آسان ہوتی ہیں مگر جس کو بھوک کے لالے پڑے ہوں اس کا پیٹ باتوں سے نہیں بھرتا“، ریحان نے تمسخرانہ مسکراہٹ دی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ اپنی بات پر پکا تھا۔


”جی آپ شاید بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ممکن ہے میں ہی غلط ہوں گا۔ بائی دا وے میرا نام پروفیسر نعمان ہے، میں لینگویج یونیورسٹی میں انگلش لیکچرار ہوں اگر میں کبھی آپ کے کام آسکوں تو ضرور بتایئے گا۔ میرا سٹاپ آگیا ہے میں چلتا ہوں، ” بس ر کی تو اس  نے اپنے پاوں پر پڑی چادر اٹھائی، ریحان  اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ نعمان کی ایک ٹانگ نہیں تھی۔ اس نے جھک کر سیٹ کے نیچے سے بیساکھی نکالی، اپنے سیدھے بازو کو بیساکھی کا سہارا دیا اور   لنگڑاتا ہوا بس سے نیچے اتر گیا ۔ بس سے نیچے اتر کر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ دی، اور ریحان کی آنکھیں شرمندگی میں اس کو جاتا دیکھ رہی تھیں۔

Facebook Comments