حسن ظن لازم مگر۔۔۔! (محمد سمیع)

حسن ظن بجا کہ یہی ہمارے دین کی تعلیم ہے لیکن اگر اس حسن ظن پر مسلسل کچوکے لگائے جائیں تو کیا پھر بھی حسن ظن سے کام لینے پر اصرار مناسب ہے؟کہاں پاکستانی قوم اور کہاں ریاست مدینہ کے دین کے فدائین۔ چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ وہ امتی تھے اور وہ بھی ایسے امتی جو اپنے نبی ﷺ پر، ان کی حکمرانی پرنہیں، اس طرح جان دینے کے لئے تیار رہتے تھے کہ غزوئہ احد کے ان شہداءکی تعداد دیکھ لی جائے جو حضور ﷺ کے دفاع میں اپنے جسموں پر دشمنوںکے تیروں کو روکتے ہوئے شہید ہوئے ۔ہم ایک قوم ہیں اور وہ بھی پاکستانی قوم جس کا قومی کردار منافقت اورجس کا شعار بقول موجودہ حکمراں کے کرپشن ہے اور المیہ یہ کہ کرپٹ حضرات نہ صرف ان کی جماعت بلکہ ان کی کابینہ میںبھی لوگوں کے بقول شامل ہیں۔تاہم ان کی دیانت پر لوگوں کا اتفاق ہے ۔اس کے باوجود کہ ان کے ہر جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک کی بجائے میوزیکل کنسرٹس سے شروع ہوتا ہے اور یہ بوالعجبی کہ ان کے ساتھ اتحاد کرنے میں وہ جماعت پیش پیش رہی جو اسلامی انقلاب کی علمبردار ہے ، ہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں بلکہ دعا گو بھی ہیں کہ اللہ مسبب الاسباب ایسے اسباب پیدا کردے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن جائے۔ بقول مولانا طارق جمیل مد ظلہ¾ کے پاکستان کو مدینے کی ریاست تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی بناسکتا ہے ، تاہم حکمراں کی نیت کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔ نیت کا حال تو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاہم ہم تو حسن ظن سے کام لیتے ہوئے حکمراں کے ارادے پر بھروسہ کرتے ہیں جو ان کے بیانات کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔



ہمارے ایک فاضل کالم نگار نے مولانا طارق جمیل مد ظلہ¾ کی موجودہ حکمراں کے لئے حمایت کے تناظر میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے علماءاور دعوت دین کے لئے کام کرنے والوں کا موازنہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔جو لوگ دین کے لئے درد رکھتے ہیں وہ تو اس وقت سے جب علماءنے سیاسی جماعتیں قائم کرکے ملک کے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا آغاز کیا ہے ،ان کی خدمت میں یہ عرض کرتے رہتے ہیں کہ حضور آپ لوگوں نے جس راستے کو اختیار کیا ہوا ہے وہ اس منزل کو نہیں پہنچتا جس کی علمبرداری کا دعویٰ آپ کرتے ہیں ۔یہ تو وہ راستہ ہے جس کی بھول بھلیوں میں آپ ایک طویل عرصے سے گم ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس عاشقی میں عزت سادات بھی خطرے میں پڑچکی ہے۔ زبانی طور پر آپ اسلام کی سربلندی کا دعویٰ توکرتے ہیں لیکن عملی طور پر ہو یہ رہا ہے کہ قوم اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی حمایت کی وجہ سے سیاسی فرقوں میں بٹ چکی ہے اور اس سے اسلام کی سربلندی تو ایک طرف خود اسلام کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ایک درویش مثال دیا کرتے تھے کہ ایسے ہی ایک رہنما عوام سے خطاب کرتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے پائے گئے تھے کہ اگر فلاں جماعت اقتدار میں آگئی تو یہاں درود پڑھنا مشکل ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت کا وہ ذکر کررہے تھے وہ عام سیاسی جماعت نہیں بلکہ مذہبی سیاسی جماعت ہی ہوسکتی تھی۔ دوسری طرف ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں عملی طور پرجمہوریت کی نیلم پری کے زلف گرہ گیر کے اس قدر اسیر ہوچکے ہیں کہ انہیں ہر وقت یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں بی بی جمہوریت کی بساط ہی نہ لپپٹ دی جائے لہٰذا اگر کبھی ایسا ہوجائے اور ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوا ہے تو یہ اس کی بحالی کے لئے وہ سیکولر خیالات کی حامل جماعتوں سے بھی اتحادکرکے تحریک چلانے سے گریز نہیںکرتیں۔ اس کی ممتاز مثال تو 1977ءکی تحریک تھی جو اصلاً تو اینٹی بھٹو تحریک تھی لیکن اس کانام نظام مصطفی تحریک رکھ دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں جیسی کچھ جمہوری سیاست ہمارے ہاں ہورہی تھی اسے لپیٹ دیا گیا تھا اور پھر اسی تحریک کے قائدین ایک ڈکٹیٹر کی کابینہ میں شامل ہوگئے تھے۔جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بھائی آپ مذہبی سیاسی جماعتوں کا ایسا اتحاد قائم کرکے ایک عوامی تحریک برپا کریں جس کا واحد ایجنڈا اسلامی نظام کا قیام اور شرعی قوانین کانفاذ ہوتو وہ اس کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔خیر انہیں تو چھوڑیں۔ان پر تو یہ شعرصادق آتا ہے کہ


وہ بھلا کسی کی بات مانے ہیں
بھائی سید تو کچھ دیوانے ہیں


اب آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جو مولانا طارق جمیل مد ظلہ¾ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ آخر موجودہ حاکم کی حمایت پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔ ان کے سامنے غالباً بایزید بسطامی ؓ کی زندگی کا وہ واقعہ نہیں آیا کہ وہ ایک مرتبہ ایک طوائف کے کوٹھے پر گئے اور اس سے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ میں تمہیں عوضانہ دے چکا ہوں لہٰذا تمہیں وہ کچھ نہیں کرنا جو تم کرتی ہو بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو میں کہتا ہوں۔ پھر انہیں جائے نماز پر کھڑا کردیا کہ صبح تک تم اللہ کی عبادت میں مشغول رہو۔ اس طرح اس کی کایہ کلپ ہوگئی۔داعی دین کو معاشرے کے ہر طبقے پر کام کرنا ہوتا ہے اور مولانا طارق جمیل مدظلہ¾ کا ماضی گواہ ہے کہ انہوں نے یہ فریضہ انجام دیا ہے اور دیتے رہتے ہیں اور اس کی مثال وہ کرکٹرز ہیں جو کرکٹ کے کھیل کے دوران بھی نماز کی ادائیگی پر مستعد ہیں اور وہ فنکار جو کبھی ایک کامیاب گلو کار تھا ایک داعی دین بن گیا اور جسے اللہ تعالیٰ نے شہادت کے مقام پر فائز کردیا۔ اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ ان کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کو یہ توفیق عطا کردے کہ وہ حقیقی معنوں میں مملکت خداد پاکستان کو مدینے کی ریاست پر نہ سہی ایک جدید اسلامی ریاست میں ڈھالنے میں کامیاب ہوجائے ۔جب وہ ایک پلے بوائے کی شہرت رکھنے والے شخص کے دل میں یہ عزم پیدا کرسکتا ہے تو اس کے لئے ایسے اسباب بھی پیدا فرماسکتا ہے کہ وہ اپنے عزم کو حقیقت کا روپ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے قائد اعظم کے ذریعے جب اس ملک کو وجود میں لاسکتا ہے تو اس کے ذریعے اس کو اس کی منزل تک پہنچانے پر بھی قادر ہے۔


اصل بات یہ ہے کہ ہم اس سے کتنا تعاون کرتے ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری اگر اللہ کی بندگی اختیار کرنے کا تہیہ کرلے اور بندگی کی تبلیغ اور بندگی کے نظام کو نافذ کرنے کی جدوجہد کرنے کا عزم مصمم کرلےک تو اللہ تعالیٰ پاکستان کو مدینے کی طرز پر قائم کردے گا ۔ان شاءاللہ۔اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے ان بنیادی تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

Facebook Comments