مذہب انسانیت

تحریر: شیبہ اعجاز
دنیا بنی، آدم کی تخلیق ہوئی اور پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں۔ ابلیس نے انکارکیا اور خود کو اس خاک کے پتلے سے بہتر جانا اوراس کے تکبر نے اسے شیطان بنادیا اور اس کے بعد سے اس کی انسان سے دشمنی شروع ہوئی اور انسان کو انسانیت سے گرانے کی کوششوں پر محیط ہوگئی۔اللہ سے مہلت مانگی اور یہ اختیار مانگاکہ مجھے اختیار دے کہ میں انسان کو ہر طرح سے بہکاو¿ں اور اسے صراط مستقیم سے ہٹاوں، اللہ تعالیٰ نے اسے روز محشر تک کے لیے یہ اختیار دیا لیکن اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔ کہا،” جو گناہ کے بعد توبہ کرے وہ ہمارا“۔


شیطان جس نے انسان کو ہرطٹرح بہکانے اور صراط مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش کی لیکن اللہ کے نیک بندوں کی جانب سے جب ناکامی ہوئی اور ہر وار ناکام ٹھہرا تو پھر اس نے گناہ کو مذہب انسانیت کا لبادہ پہنایا تاکہ نہ گناہ کا تصور ہواور نہ ہی توبہ کی توفیق ہو۔مدہب انسانیت وہ فتنہ جسے ہمدردی اور خلوص کی پوشاک پہناکر برابری کے زیور سے آراستہ کیا گیا تاکہ دینی فرائض کی ادائیگی کو رکاوٹ بناکر سادہ اور سچے مسلمان کو آسانی سے ورغلایا جا سکے۔سادہ لوحمسلمانوں کو انسانیت کا جھانسہ دے کر یہود و نصاری کے مابین فرق کو مٹایا جاسکے اورمسلمان اپنی عبادت و ریاضت سے بے نیاز ہوکر فقط بندوں کی بندگی کو ہی عبادت تصور کرے اور اس مذہب انسانیت کا پیروکار بن جائے۔


ہمارے معاشرے کی ایک بڑی برائی یہ بھی ہے کہ بغیر تحقیق کے بات آگے بڑھا دیتے ہیں۔ مذہب سے جان چھڑانے یا اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے انسانیت کا سہارا لے کر وقتی ہمدردی کو ہی مذہب کا نام دے کر دل کی تسلی کر لیتے ہیں۔ نام نہاد مسلمان انسانیت ،انسانیت کا کھیل شروع کرچکے ہیں اور انسانیت کو مذہب سے اونچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ساتھ ہی اسے خدا کی خوشنودی کا واحد حل بتاتے ہیں۔ انسانیت دراصل ایک جذبہ ہے ہمدردی کا جو وقتی طور پہ اپنا بھر پور اثر دکھاتا ہے یوں شیطان کے آلہ کار بہت خوب صورتی اور آسانی سے اپنا وار کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ جوکام انسانیت یا ہمدردی کے نام پر کیے جاتے ہیں ان سب کی تعلیم ہمارے مذہب نے پہلے ہی دی ہے لیکن اسلامی تعلیمات سے دوری نے مسلمان کو اس فتنے میں ڈال دیا ہے۔


ہم انسان ہیں اور انسانیت ایک بہت بڑی دلیل ہے لیکن اس کودین اسلام پہ فوقیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اسلام اللہ کا بنایا ہو دین ہے اور اس میں جتنا زیادہ حقوق العباد کا خیال کیا گیا ہے اور اس کی تعلیم دی گئی ہے کسی اور مذہب میں اس کی نظیر نہیں۔ جہاں اللہ خود یہ کہے کہ حقوق اللہ کو تو میں معاف کرسکتا ہوںلیکن حقوق العباد کے لیے خود اپنے معاملات صاف رکھنے ہوں گے۔ وہ تمام کام جو انسانیت کے نام پہ کروائے جارہے ہیں اسلام نے انہیں فرائض کے درجہ میں رکھا ہے۔ عوام کی فلاح وبہبود کے کام کرنا، لوگوں کی دادرسی کرنا، دکھ بانٹنا، پریشانی دور کرنا، غریب لوگوں کی مدد کرنا وغیرہ ان سب کو انسانیت کا نام دیا جارہا ہے جبکہ اسلام ان کا حکم دیتا اور یہ سب کام نیکی کے درجہ میں آتے ہیں جنہیں حقوق العباد کہا گیا ہے لیکن کوئی بھی شخص فقط حقوق العباد پورے کرکے مستثنی نہیں ہوسکتا الا یہ کہ وہ حقوق اللہ بھی ادا کرے۔ جس کے لیے اسے تعلیمات اسلامی سے آگاہی ضروری ہے۔


کچھ این جی اوزاپنا کام چلانے کے لیے اور کاروبار چمکانے کے لیے بھی بھی اس فتنے کا ہوا دے رہے ہیں ۔امداد حاصل کرنے کے چکر میں انسانیت کی خدمت کو مذہب کا نام دیا جارہا ہے اور مذہب کو ثانوی حیثیت دے کر زاتی زندگی تک محدود کرکے مذہب سے دور کیا جارہا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کیا جائے اورحقوق العباد پر زور دیا جائے ۔اسلام کے احکامات پر عمل کرکے اس دور کے فتنوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

انسانیت مذہب نہیں بلکہ مذہب کا حصہ ہے۔ اسے کسی طور مذہب کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ اگرانسانیت کی خدمت رضائے الٰہی کے لیے کی جائے تو دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے ۔فتنوں کے اس دور میں اللہ ہمیں ہر فتنے سے بچائے آمین

Facebook Comments