تحریر:عظمیٰ ظفر
دو گھنٹے سے ٹیلر ماسٹر کے ساتھ مغز ماری کرتے کرتے ابیحہ کی ٹانگیں جواب دے رہی تھیں مگر وہ تھے کہ ابیحہ کے بتائے ہوئے ڈیزائن پر متفق نہیں تھے۔”ابیحہ بٹیا! جیسا آپ چاہ رہی ہو ویسا ڈیزائن نہیں بن سکتا“۔ اس مرتبہ ٹیلر ماسڑ نے قدرے سختی سے کہا۔”مگرکیوں“؟ابیحہ زچ ہوگئی تھی۔”آپ تو ہمیشہ ویسا ہی ڈیزائن بناتے ہیں جیسا مما کہتی ہیں اب میں کہہ رہی ہوں تو آپ منع کر رہے ہیں “۔ شریف نے سلائی مشین سے نظر اٹھا کر ابیحہ کو دیکھا جو گزشتہ چھ سات سالوں سے ترنم میڈم کے ساتھ اکثر آیا کرتی تھی۔ میڈم نے بھی ہمیشہ فیشن کے مطابق کپڑے سلوائے تھے، ماسڑ صاحب کی سلائی اتنی بہترین اور دیدہ زیب ہوتی کہ وہ کبھی شکایت نہیں کرتیں تھیں مگر جب سے ابیحہ بی بی نے کالج میں قدم رکھا وہ اکیلے ہی کپڑے سلوانے آجاتیں تھیں۔ کیٹ لاگ سے نت نئے ڈیزائن چن کر کچھ کم زیادہ کر کے اسے یونیک بنا کر سلوانے میں ماسڑ صاحب کا بہت وقت برباد ہوتا جب کہ شریف کا بس نہیں چلتا کہ اس فیشن کی ماری کو دو منٹ میں چلتا کرے ، جو مہنگے کپڑوں کی درگت بنانے پر مصر تھی۔ وجہ صرف یہ تھی کہ منفرد اسٹائل ہو ۔ ماسڑ صاحب اپنی پرانی اور مستقل گاہک ہونے کی وجہ سے ان سے سلائی کی قیمت بھی محنت کے حساب سے لیتے تھے اور وہاں سے پیسے بنا بحث کیے مل جاتے تھے اس لیے وہ اپنی روزی پر لات نہیں مارنا چاہتے تھے مگر ابیحہ کی سوئی ایک بات پر اٹک گئی تھی تو ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

شریف نے بوڑھے باپ کو پریشان ہوتا دیکھ کر مداخلت کرنا ضروری سمجھا۔”دیکھیے ابیحہ بی بی! آپ شیفون سلک پر بہت ڈیپ گلا رکھوائیں گی تو اسٹون کے بھاری کام کی وجہ سے وہ اور لٹک جائے گا پھر نیٹ کی سلیوز بھی اسے سپورٹ نہیں کریں گی یا تو آپ اِنر تھوڑا موٹے کپڑے کا لگوائیں جبھی اسے سپورٹ ملے گی۔ ورنہ آپ کی مرضی کہیں اور سے سلوا لیںاگر سلائی پسند نہیں آئی تو اتنا نازک کپڑا ضائع ہوجائے گا۔ ابو کی طبیعت آج کل ٹھیک نہیں رہتی وہ اب سلائی نہیں کرتے، بس کپڑے لیتے ہیں۔”شریف نے ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ کہنا چاہا کہ وہ ایسے بے ہودہ فیشن والے کپڑے نہیں سلائی کرسکتا ، نہ اس کے والد کرسکتے ہیں۔شریف صرف نام کا شریف نہیں تھا،بلکہ اس پیشے میں رہ کر بھی وہ اکثر گاہک کے بتائے ہوئے بے تکے ڈیزائن بنانے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ابیحہ نے اس وقت مایوسی سے کپڑے واپس شاپر میں ڈالے ”میں کل مما کے ساتھ آوں گی ماسڑ صاحب “، اور وہاں سے نکل آئی۔گھر آکر بھی اس موڈ سخت خراب تھا ۔

دوست کی شادی بھی قریب تھی، باقی فنکشنز کے لیے تو اس نے بوتیکس سے جوڑے لیے تھے ایک یہی سوٹ تھا جو وہ اپنی مرضی سے سلوانا چاہتی تھی، ماسڑ صاحب کے انکار سے اسے غصہ آرہا تھا۔ گھر پہنچی تو مما کے ساتھ خالہ جانی بیٹھی ہوئیں تھیں۔ابیحہ کو خالہ سے پیار تھا مگر ہر وقت روک ٹوک بری لگتی تھی کیوں کہ وہ مما سے بلکل الٹ تھیں۔ جتنی فیشن زدہ ابیحہ کی فیملی تھی،اتنی خالہ جانی نہیں تھیں وہ شادی سے پہلے بھی سادہ رہتی تھیں اور شادی کے بعد تو اور بھی بیک ورڈ ہوگئی تھیں ۔ یہ ابیحہ کا ذاتی خیال تھا کیوں کہ ان کے سسرال والے اس طرح کی آزادی کو پسند نہیں کرتے تھے،حجاب کا خاص خیال رکھا جاتا تھا جب کہ رخشی اپنے شوہر کی معیت میں،علم وآگہی کی بدولت خود کافی بدل چکی تھی۔”کیا ہوا اتنا موڈ کیوں خراب ہے“؟مما نے اس سے پوچھا۔ابیحہ نے سارا قصہ سنایا انھیں بھی اس بات پر بہت حیرانی ہوئی کہ ماسڑ صاحب نے کبھی کسی ڈیزائن پر انکار تو نہیں کیا ۔ ”جی مماان سے زیادہ پریشانی تو ان کے بیٹے کو ہو رہی ہے کہ میں ڈیپ گلا کیوں رکھوا رہی ہوں،میری مرضی ہے میں جیسے کپڑے سلواوں اور پہنوں“۔

ابیحہ نے غصے سے کہا”وہ ٹیلر ہیں، ٹیلر ہی رہیں،جب سے ان کا بیٹا بیٹھ رہا ہے کچھ نہ کچھ چینج کردیتا ہے میرے کپڑوں کے ڈیزائن کو۔ اب میں سمجھی میری کیپری کو بھی اسی نے لانگ سائز میں سی ہوگی“ ، ابیحہ نے اپنے شک کو یقین میں بدلتے ہوئے کہا۔”رلیکس ابیحہ! تم کوئی دوسرے کپڑے پہن لینا“، خالہ جانی نے اسے ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا،آپ کو نہیں پتہ سارے سوٹ میری فرینڈز نے دیکھے ہوئے ہیں۔ مجھے نیا جوڑا ہی پہننا ہے بارات میں،ٹیلر ماسٹر سے بات کریں مما پلیز، ابیحہ نے بچوں جیسی ضد کی تھی۔”مجھے بہت کام ہیں تم ایسا کرو رخشی کی شادی میں جو پرپل ڈریس پہنا تھا وہی پہن لو“۔ ”مما! خالہ جانی کی شادی کو سال ہونے والا ہے، فیشن تو ہر روز ہی چینج ہوتا ہے خالہ جانی آپ نے فیشن ڈیزائنر کی ڈگری کیوں لی تھی؟ اب میرا یہ سوٹ سی کر دیں گی آپ“،ابیحہ کو یاد آیا تو اس نے خالہ جانی کے سامنے شاپر رکھ دیا۔ ”مگر آپ تو اتنی بورنگ ہوگئی ہیں شادی کے بعد،نہ تو فیشن کرتی ہیں نہ اچھے اسٹائلش ڈریس پہنتہیں“۔ایک بات تو بتاو ابیحہ، تم یہ ڈریس صرف اس لیے سلوانا چاہتی ہو کہ سب تمہیں دیکھ کر تعریف کریں، انھوں نے پوچھا۔”آف کورس“، ابیحہ نے آنکھیں مٹکائیں۔ رخشی نے مسکراتے ہوئے کہا، ”اچھا کیا تمہیں یہ حدیث نبوی ﷺ معلوم ہے کہ ، ”جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا، روز قیامت اللہ تعالیٰ اسے ذلت کا لباس پہنائیں گے“۔(سنن ابو داود، ابن ماجہ، سنن نسائی)

ابیحہ نے یہ بات سن کر کچھ کہنا چاہا مگر خاموش ہوگئی کیوں کہ دنیا کے فیشن زدہ لوگ دین کی باتوں کو کہاں پسند کرتے ہیں پھر تھوڑی دیر بعد گویا ہوئی،”مگر خالا جانی! اچھا لگنا تو سب کو پسند ہے، اب کیا میں فیشن کے حساب سے ڈریسنگ بھی نہ کروں“، اس نے منہ بنایا۔”تم بالکل موقع محل اور فیشن کے حساب سے لباس پہنو مگر ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے جسم کو چھپانے کے بجائے دکھانے والا بن جائے اور سب تمہیں بری نظروں سے گھورتے رہیں۔ چھوٹے باریک کپڑوں، بڑے بڑے گلوں،فٹنگ کے ٹراوزر اور کیپری پہن کر تم کیا ثابت کرو گی کہ تم بہت خوبصورت ہو اور دوسرے کم تر ہیں،تو آگئی نہ بات دکھاوے کی۔ رخشی خالا نے بہت پیار سے بات سمجھائی، لباس تو حیاءکی علامت ہے نہ کہ بے حیائی کی۔عورت جب گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے گھورتا ہے اور اسے وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم نہیں دیکھ سکتے۔

اب بتاو اگر کوئی بلا ضرورت گھر سے باہر نکلے اور وہ بھی فیشن کے نام پر محض دوسروں کو دکھانے اور اچھا لگنے کی چاہ میں محض ایک شو پیس بن جائے تو کیا ایسا کرنا درست ہوگا؟ ابیحہ جزبز سی ہوگئی تھی مما نے بھی اپنی بہن کو خاموش نظروں سے دیکھا انہوں نے کب اس بات کو اہمیت دی تھی کہ لباس اور حجاب کی اہمیت کیا ہے۔رخشی نے دیکھا کہ ابیحہ کچھ مائل ہو رہی ہے تو انہوں نے اس کا موڈ بدلنے کا سوچا کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ نصیحت کرنے کا مقصد کسی کے دل کے دروازے پر دستک دینا ہے، دروازہ توڑنا نہیں۔”اچھا لاو! میں تمہارا سوٹ سی دوں گی مگر ارجنٹ سلائی کے پیسے ڈبل لوں گی ابیحہ بی بی ہاں“، رخشی نے خالص ماسڑ صاحب کے انداز میں کہا تو ابیحہ نے مسکراتے ہوئے خالا جانی! کہہ کر ان کے گلے لگ گئی۔

Facebook Comments