ام محمد سلمان
رات کے دو بجے تھے اور نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ذہن مستقل تانے بانوں میں الجھا ہوا تھا۔ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں؟ عرشیہ نے برابر میں سوئی ہوئی ام کلثوم کو جگایا، نیند نہیں آرہی آپی! کب سے کروٹیں بدل رہی ہوں۔ اٹھیں ناں پلیز میری بات سنیں آپی! عرشیہ نے ام کلثوم کا کندھا ہلایا ،”عرشی پلیز سو جاو آدھی رات کو تنگ نہ کرو“ کلثوم پھر کروٹ لے کر سو گئی۔ آپی پلیز اٹھ جائیں میرا دل گھبرا رہا ہے، عرشی روہانسی ہو کر بولی۔

کلثوم نے آنکھیں کھول کے چھوٹی بہن کی طرف دیکھا، دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے لڑھک جانے کے لیے بے تاب نظر آرہے تھے۔ کیا بات ہے عرشی، میری گڑیا رانی کیا ہوا تمہیں؟ کیوں رو رہی ہو؟ کلثوم سے اس کے آنسو دیکھے نہ گئے۔”آپی بہت ڈر لگ رہا ہے ذرا سی دیر آنکھ لگی تھی تو بہت ڈراونا خواب دیکھا اب میں سونا نہیں چاہتی کہیں پھر وہ خواب نظر آجائے“۔ کلثوم نے اسے ساتھ لگا کر تسلی دی فکر نہ کرو میری بہنا، میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ کیا خواب دیکھا تھا مجھے بتاو؟ اور بے ساختہ عرشیہ کی سسکیاں بلند ہو گئیں۔

”کیا بتاوں آپی وہ بہت برا خواب تھا بہت ہی برا۔ملعون یہودی گیرٹ نظر آیا مجھے، وہ بہت قہقہے لگا رہا تھا کہہ رہا تھا تم لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تم مجھے روک نہیں سکتے۔ وہ میرا مذاق اڑا رہا تھا آپی۔ میری طرف ہاتھ کے اشارے کر کے ہنس رہا تھا وہ کہہ رہا تھا ارے تم لوگ ہو کیا چیز؟ ہمارا کھاتے ہو اور ہم پر ہی غراتے ہو۔ ہاہاہاہا تمہیں تو ہم دیکھ لیں گے۔وہ بہت بھیانک قہقہے لگا رہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا میں اس کا خون کر دوں، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں، لیکن میں کچھ نہیں کر پائی اور وہ ملعون قہقہے لگاتا ہوا چلا گیا“، عرشیہ سسکتے ہوئے بولی۔آپی ہماری حکومت کچھ کرتی کیوں نہیں؟ ہالینڈ پر دباو کیوں نہیں ڈالتی؟ ہمارے حکمران ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب کیوں نہیں دیتے آپی؟ہم تو ایٹمی طاقت ہیں ناں پھر ہم کیوں ڈرتے ہیں کچھ کرتے کیوں نہیں؟ عرشیہ نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔ کاش کاش میں اپنی جان دے کے بھی ان مقابلوں کو رکوا سکتی۔ کاش میں کچھ کر سکتی۔ عرشیہ گہرے دکھ کے ساتھ بولی۔

ام کلثوم چپ چاپ اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتی رہی پھر بولی ،”حکومت سے کیا امید رکھیں عرشی اب کوئی نورالدین زنگی نظر نہیں آتا؟ یہاں سب کو اپنی پڑی ہے اور تمہیں پتا ہے تمہیں یہ خواب کیوں نظر آیا؟ وہ ملعون یہودی کیوں تم پر ہنس رہا تھا؟ کیونکہ اس گھر میں سب سے زیادہ یونی لیور کی پراڈکٹس تم ہی لے کر آتی ہو ہر نئی چیز کا خمار چڑھتا ہے تمہیں۔ کنور کے سوپ، نوڈلز اور نہ جانے کون کون سے زبان کے چٹخارے ہیںجن کے بغیر تمہارا گزارا نہیں۔ چائے لپٹن اور سپریم کی، دودھ ڈبوں کا اور وہ پوڈر والا دودھ، جسے تم خشک ہی پھانکتی رہتی ہو۔ ٹینگ، والز آئسکریم، کورنیٹو اور میگنم چاکلیٹ کھائے بغیر تمہارا دن نہیں گزرتا یہاں تک کہ تم تحفے میں بھی لوگوں کو یہی چیزیں دیتی ہو گویا ،خود تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔

پھر بھی وہ ملعون یہودی اگر تم پر نہ ہنسے، تو کس پر ہنسے گا“؟ عرشیہ کے دل پر بجلی سی گری۔”لیکن آپی اتنے سارے لوگ بائیکاٹ کررہے ہیں اگر میں یہ چیزیں کھا بھی لیتی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے“؟”فرق پڑتا ہے عرشی ،فرق پڑتا ہے“، ام کلثوم زور دے کر بولی۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے اگر ہر بندہ تمہاری طرح سوچ کر بیٹھ جائے کہ ایک صرف میرے کھانے سے کیا فرق پڑے گا تو بتاو پھر یہ تحریک تو بالکل بے جان ہو کر رہ جائے گی۔ فرق تو تب ہی پڑے گا جب ہر بندہ اپنی جگہ مضبوطی دکھائے گا اور عزم و استقلال کا پیکر بنے گا۔تم سمجھتی ہو کہ کیا صرف ناموسِ رسالت کی پوسٹز شئیر کرنے سے حق ادا ہو جائے گا؟نہیں میری بہنا نہیں! محبت قربانی مانگتی ہے محبت کا پودا ایسے نہیں پنپتا، اسے سچے جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی جڑوں میں خواہشات کا بہتا لہو ڈالا جاتا ہے، یہ پودا خون جگر سے سینچا جاتا ہے تب کہیں جا کر تناور درخت بنتا ہے۔

میری بہن! محبت ہے تو کچھ کر کے دکھاو کوئی عملی ثبوت دو، ورنہ آج تو صرف خواب دیکھا ہے ایسا نہ ہو کل قیامت کے دن یہ خواب حقیقت بن جائے۔ حبِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کرنے والے نبی علیہ السلام کی اقتدا میں ایک طرف کھڑے ہوں اور زبان کے چٹخارے لینے والے۔ شاید اس ملعون یہودی کے ساتھ دوسری طرف۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے عرشی! اور یہ بات سن کر عرشی کی روح تک کانپ گئی“۔ ایسا تو نہ کہیں آپی مجھے ڈر لگتا ہے ایسی باتوں سے۔ عرشیہ دل ہی دل میں قائل ہو رہی تھی مگر دوستوں کی کہی باتیں ابھی بھی سوال اٹھا رہی تھیں سو پوچھ بیٹھی۔ ”لیکن آپی کچھ لوگ کہتے ہیں بس ہم اپنی غلطیاں سدھار لیں، اسلام پہ عمل کریں، سنت کے طریقوں پر چلیں بس یہی ہماری ذمہ داری ہے“ عرشیہ نے سوالیہ نظروں سے بہن کی طرف دیکھا؟

”یقیناً یہ سب کچھ کرنا چاہیے اور لازمی کرنا چاہیے اچھے اعمال کی برکات یقیناً باطل کا زور توڑ سکتی ہیں لیکن آج جو صورتحال ہے تو صرف اتنا کرلینا کافی نہیں ہے ۔میری بہن! جب کوئی موذی بیماری لگ جائے تو صرف دوا دارو کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ پرہیز بھی کیا جاتا ہے۔ بہت سی پسندیدہ غذائیں چھوڑنی پڑتی ہیں جیسے شوگر کے مریض میٹھا چھوڑ دیتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں بھی دوا کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی کرنا ہے۔ زبان کے ان تمام چٹخاروں سے مکمل پرہیز یعنی دوا کے طور پر دین اسلام اور سنت نبوی پر عمل اور پرہیز کے طور پر کفار کی مصنوعات کا بائیکاٹ۔ تب کہیں جا کے ہم اپنے مقصد کو پہنچیں گے عرشی“۔

دیکھو تو رات کے تین بج گئے پتا ہی نہیں چلا۔ ام کلثوم نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ میں تہجد کی تیاری کر لوں، وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔ دوا کے ساتھ ساتھ پرہیز اور پرہیز کے ساتھ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجانے کی دعا بھی مانگنی تھی۔ ابھی تو بہت آنسو بہانے تھے۔ رب کریم کو وہ درد دکھانا تھا جو دل میں ٹیسیں بن بن کے ابھرتا ہے۔ اسی کریم ذات سے اپنے منصوبوں کی کامیابی کی دعا کرنی تھی، وہی تو ہے جو مضطرب دل کی فریاد سنتا ہے۔ رات کے پچھلے پہر ام کلثوم اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلائے سسک رہی تھی اور عرشیہ عزم کر چکی تھی محبت کے لیے تو قربانی دینی پڑتی ہے۔ تو کیا میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت میں اپنی یہ کھٹی میٹھی بیکار سی خواہشات قربان نہیں کر سکتی؟ کیوں نہیں؟ میں کر سکتی ہوں۔ میں ایسا کروں گی ان شاءاللہ کسی کو فرق پڑے یا نہ پڑے، مجھے تو قیامت کے روز اپنے نبی ﷺکی معیت چاہئے۔

Facebook Comments